1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ کے علاقے میں صورتحال پھر کشیدہ

غزہ پٹی کے علاقے میں اسرائیل کی طرف سے کئے گئے تین فضائی بمباری کے واقعات میں ہلاک ہونے والے دوسرے فلسطینی کی لاش اتوار کو برآمد ہو گئی ہے جبکہ ایک فلسطینی ہنوز لاپتہ ہے۔

default

اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والا غزہ کا اسمگلنگ ٹنل

فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ ان حملوں کا نشانہ اُن سرنگوں کو بنایا گیا جن کے ذریعے مصر سے فلسطینی علاقوں میں اشیاء سمگل کی جاتی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ یہ ریڈ گزشتہ ہفتوں میں اسرائیل پر فلسطینیوں کے حملے کا رد عمل ہے۔ اسرائیل اور فلسطین کے مابین مسلحہ جھڑپوں کا یہ تازہ سلسلہ مشرق وسطیٰ کے تنازعہ کے حل کے لئے عمل میں لائے جانے والے براہ راست مذاکرات کے چند روز بعد ہی دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ واشنگٹن میں ہونے والے امن مذاکرات گزشتہ تقریباً دو سالوں میں پہلی بار ہوئے۔

Attentat auf Israelis

31 اگست کو ایک یہودی آبادی پر ہونے والا دہشت گرد حملہ

دریں اثناء عسکریت پسند تنظیم حماس کے اہلکاروں نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اسرائیلی ریڈ میں ہلاک ہونے والے فلسطینی اسمگلرز تھے اور غزہ کو مصر سے ملانے والی سرحد کے نیچے ٹنلز یا سُرنگوں میں کام کرتے تھے۔ اُدھر اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ آج صبح غزہ کے علاقے سے جنوبی اسرائیل کی طرف ایک راکٹ داغا گیا ہے۔

گزشتہ منگل کو غرب اردن کے علاقے میں 4 اسرائیلیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ حماس نے ان ہلاکتوں کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔ اگلے ہی روز یعنی بدھ کو مغربی اردن ہی کے علاقے میں فائرنگ کے تبادلے میں دو اسرائیلی باشندے زخمی ہوئے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے واشنگٹن منعقدہ اسرائیل اور فلسطین کے قائدین کے مابین براہ راست امن مذاکرات اس دیرینہ مئسلے کے حل کے لئے آخری موقع ثابت ہو سکتے ہیں۔

USA Israel Palästinenser Benjamin Netanyahu Hillary Rodham Clinton und Mahmoud Abbas in Washington

گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں ہونے والے براہ راست امن مذاکرات

اسرائیلی میڈیا کے مطابق آج اتوار کو وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کا ایک اجلاس طلب کر لیا جس کا مقصد تازہ ترین براہ راست امن مذاکرات کے بارے میں صلاح و مشورہ کرنا ہے۔ اجلاس کے آغاز پر نیتن یاہو نے کہا کہ وہ ہنوزغرب اردن میں یہودی آباد کاری کے متنارعہ منصوبے کا کوئی حل نہیں دیکھ رہے۔ انہوں نے کہا کہ 26 ستمبر کو اس منصوبے کی قانونی مہلت کے خاتمے تک کسی حل کے سامنے آنے کی امید نظر نہیں آ رہی ہے۔ اسرائیل کی جانب سے تعمیراتی منصوبوں پر عارضی طور پر دس ماہ کی پابندی عائد کی گئی تھی۔ یہ مدت اسی ماہ ختم ہونے جا رہی ہے۔ فلسطینیوں کی جانب سے یہودی بستیوں کی تعمیر کے منصوبے کو مکمل طور پر روکنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ جمعرات کو واشنگٹن میں ہونے والے براہ راست مذاکرات میں فریقین کے مابین 10 ماہ کی قانونی مہلت کا موضوع ہی سب سے زیادہ نزع کا باعث بنا تھا۔ فلسطینی مذاکرات کاروں نے مقبوضہ علاقوں پر یہودی بستیوں کی تعمیر کے پراجیکٹ کے ممکنہ طور پر ازسرنو شروع ہونے کی صورت میں بات چیت کےسلسلےکو منقطع کرنے کی دھمکی دی تھی۔ اُدھراسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی مخلوط حکومت میں شامل دائیں بازو کے قدامت پسند اراکین نے کہا ہے کہ اگر تعمیراتی منصوبوں پر عارضی طور پر دس ماہ کی پابندی میں توسیع کی گئی تو وہ حکومت سے علیحدگی اختیار کر لیں گے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس