1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

غزہ کی تعمیر نو کے لئے عالمی امدادی کانفرنس

مصر کے شہر شرم الشيخ ميں جمع ہونے والے عالمی رہنماؤں نے زور ديا ہے کہ جنگ سے تباہ ہونے والے غزہ کے علاقے کی تعميرنو کے لئے جلد اقدامات کئے جائيں۔

default

غزہ کی تعمیر نو کے لئے منعقدہ عالمی امدادی کانفرنس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر مصری صدر خطاب کے دوران

انہوں نے غزہ کے لئے کئی بلين ڈالر کی مدد کا اعلان کيا اورپیر کے روز دوپہر تک ايسا معلوم ہوتا تھا کہ امداد دينے والے ممالک فلسطينی صدر محمودعباس کی طرف سے غزہ کی تعمير نو کے لئے دو اعشاريہ آٹھ بلين ڈالر کی امداد کی درخواست کے مطابق مدد فراہم کرديں گے۔

سعودی وزير خارجہ سعود الفيصل نے اپنے ملک کی طرف سے ايک بلين ڈالر کی مدد دينے کی تصديق کی۔ امريکہ نے نوسو ملين ڈالر کی مدد کا اعلان کيا۔ کوويت نے دوسوملين ڈالر اور اٹلی نے ايک سو ملين ڈالر کا وعدہ کيا ہے۔ جرمنی نے ايک سو پچاس ملين ڈالر، اور برازيل نے دس ملين ڈالر دننے کا اعلان کيا ہے۔

Geberkonferenz in Sharm el Sheik 2009

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے مصری صدر حسنی مبارک سے ملاقات بھی کی

مصر کے صدر حسنی مبا رک نے غزہ کی امداد کی عالمی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے خبردار کيا کہ اس وقت مشرق وسطی ميں دھماکہ خيز صورت حال پيدا ہونے کا خطرہ ہميشہ سے زيادہ ہے۔

امريکی وزير خارجہ نے حماس پر زور ديا کہ وہ مزاحمت اور مسترد کرنے کے چکر کو توڑ دے۔ انہوں نے يہ بھی کہا : ’’غزہ کی انسانی بنياد پر مدد دينے سے ہمارا مقصد ايک فلسطينی رياست کے قيام کو بھی مکمل طور پر ممکن بنانا ہے ۔ ايک ايسی فلسطينی رياست، جس کے اسرائيل اور ہمسايہ عرب ملکوں کے ساتھ پر امن تعلقات ہوں اور جو اپنے عوام کے سامنے جوابدہ ہو۔‘‘

حماس کے رہنما پیر کے روز ہونے والی اس کانفرنس ميں شريک نہیں تھے۔ انہوں نے جمعرات کو قاہرہ ميں، صدر عباس کے فتح گروپ کے ساتھ ہونے والی ايک کانفرنس ميں قومی اتحاد کی فلسطينی حکومت ميں شموليت پر اصولی طور پر اتفاق کيا۔ صدر عباس نے کہا کہ فلسطينيوں کے پاس باہمی اتحاد اور صلح کے علاوہ کوئی اور راستہ نہيں ہے اور سياسی حل کے بغير ہمارا تعمير نو کا کام خطرے ميں پڑ جائے گا۔

Geberkonferenz in Sharm el Sheik 2009

عالمی رہنماؤں نے مسئلے کے مستقل اور پائیدار حل پر زور دیا

فرانس کے صدر سارکوزی نے ايک بار پھر کہا کہ فلسطين ميں قیام امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لئے ايک عالمی کانفرنس بلائی جائے۔

برطانوی وزير خارجہ ملی بينڈ نے کہاکہ اس عشروں پرانے تنازعے کا حل امريکہ کی مضبوط حمايت کے بغير ممکن نہيں ہے۔

يورپی يونين کی کمشنر فريرو والڈنر نے کہا ’’ہم پر مدد کی اخلاقی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ يہاں لوگوں کی حالت انتہائی ابتر ہے۔‘‘

مختلف عالمی رہنماؤں نے غزہ کی سرحد کو کھولنے ليکن اسے اسلحے کی اسگلنگ کے لئے استعمال نہ کرنے کی اپيل بھی کی۔