1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ کی تازہ ترین صورت حال

غزہ پٹی پر جاری اسرائیلی حملوں کے اکیسویں دن ایک طرف تو جنگ بندی کےلئےکی جانے والی کوششیں مزید تیز ہوگئی ہیں۔ تو دوسری جانب ابھی تک جنگ بندی کے واضح امکانات سامنے نہیں آئے اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

default

غزہ میں جاری اسرائیلی حملے میں کئی شہری عمارتیں بھی تباہ ہوئیں

اسرائیلی وزیر خارجہ زپی لیونی اس حوالے سے ایک اہم دورے پر امریکی دارلحکومت واشنگٹن پہنچی ہیں جہاں انہوں نے اپنی امریکی ہم منصب کونڈولیزا رائس سے ملاقات کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں جس کے مطابق جنگ بندی قبول کرنے کی صورت میں حماس کے عسکریت پسند خود کو مسلح نہیں کرپائیں گے۔

جنگ بندی کوششوں کے لئے مشرق وسطٰی میں موجود اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ یک طرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کرے۔ اِسی دوران جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر بھی اپنی ثالثی کوششوں کے دوران اسرائیل اور مغربی کنارے سے ہوتے ہوئےایک بار پھر مصر پہنچ گئے ہیں۔

ادھر غزہ میں اسرائیلی فوجی کل شہر کے اندر فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپوں کے بعد آج پیچھے ہٹ کر اپنی سابقہ پوزیشن پر چلے گئے ہیں۔ 27 دسمبر سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک ہلاک ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔غزہ میں وزارت صحت کے اعداد وشمار کے مطابق اب تک اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 1133 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زخمیوں کی تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کرچکی ہے۔ ان اعداد وشمار کے مطابق مرنے والوں میں 368 بچے ہیں جبکہ زخمی بچوں کی تعداد سترہ سو تک پہنچ چکی ہے۔ دوسری جانب اکیس روزہ اس جنگ میں اسرائیل کے 13 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں تین سویلین ہیں۔

تنازعے کے حل کے لئے قطر کے دارالحکومت دوہا میں عرب لیگ کا ایک ہنگامی اجلاس ہورہا ہے جس میں ایرانی صدر احمدی نژاد اور حماس کے قائد خالد مشعل بھی شرکت کر رہے ہیں۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فلسیطینی وزیراعظم سلام فیاد نے اسے ایک ایسی انسانی تباہی سے تعبیر کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں اپنے محافظ دستے تعینات کرے۔ شام کے صدر بشار ال اسد نے عرب ملکوں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے ساتھ بلاواسطہ یا بالواسطہ ہر طرح کے رابطوں اور تعلقات کو ختم کر دیں۔ جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس موقع پر قطر اور موریطانیہ نے اسرائیل کے ساتھ تعلق ختم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

دوسری طرف امریکہ کے حلیف ممالک مصر اور سعودی عرب نے اس اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی اس میں شرکت نہیں کی۔

DW.COM