1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ کی امداد کے لئے ایک اوربحری جہاذ روانہ

اسرائیل کی طرف سے غزہ کی ناکہ بندی کو توڑنے کی کوششوں کے خلاف سخت اقدامات کے باوجود یونانی بندر گاہ سے ایک سامان بردار جہاذ ’امالتھیا‘ ہفتے کے روز غزہ کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔

default

یونانی بندرگاہ سے غزہ کے لئے روانہ ہونے والا بحری جہاذ ’امالتھیا‘

مالدویہ کے جھنڈے کے ساتھ سفر کرنے والے اس بحری جہاذ کو لیبیا کے ایک خیراتی ادارے ’ قدافی انٹر نیشنل چیریٹی اینڈ ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن ‘ نے چارٹر کیا ہے۔ اس ادارے کی نگران اور چئیرمین لیبیا کے راہنما کرنل قدافی کے صاحبزادے ’سیف الاسلام قدافی‘ ہیں۔ غزہ کی امداد کی ایک نئی کوشش اور امید کی کرن لئے جہاذ ’امالتھیا‘ یونان کی ’لاویرو‘ بندرگاہ سے روانہ ہوا ہے۔ اس میں 2 ہزار ٹن کی غذائی اجزاء، پکانے کا تیل، ادویات اور بنے بنائے گھروں لادے گئے ہیں۔

Libysche Flotte für Gaza Flash-Galerie

غزہ کے لئے روانہ ہونے والے جہاذ ’امالتھیا‘ میں امدادی اشیاء لادی جا رہی ہیں

دریں اثناء اسرائیل نے اقوام متحدہ سے رجوع کرتے ہوئے اس معاملے میں مدد مانگی ہے۔ اطلاعات کے مطابق تل ابیب حکومت نے یونان اور مالدویہ کی حکومتوں سے بھی رابطہ کیا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے اس امدادی بحری جہاذ کو روکنے کے سلسلے میں دباؤ کے باوجود اس قافلے کے منتظمین اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہنے کے عزم کا اظہار کر رہے ہیں۔ قبل ازاں اسرائیل نے چند روز پہلے ہی غزہ کی ناکہ بندی کے سلسلے میں اپنی اعلان کردہ نرمی کی تفصیلات منظر عام پر لائی تھیں، جن کے تحت غزہ کے لئے عام استعمال کی اشیاء کی ترسیل کی اجازت دے دی گئی تھی تاہم تعمیراتی کاموں کے لئے مطلوبہ سامان کی نقل و حمل پر پابند ہنوز جاری ہے۔ غزہ کے علاقے میں برآمدات کی پابندی بھی ابھی جاری ہے۔

Avigdor Lieberman

اسرائیلی وزیر خارجہ لیبرمن

غزہ کی ناکہ بندی اوروہاں کے عوام کے لئے ہر قسم کی امداد پر سخت پابندی کا سلسلہ اسرائیل کی طرف سے گزشتہ چار سالوں سے جاری ہے تاہم مئی کے ماہ میں غزہ کے اس محاصرہ کے خلاف احتجاج کا مظاہرہ کرتے ہوئے سمندر کے رستے غزہ کی طرف بڑھنے والے بحری قافلے پر اسرائیلی فوج کے حملے کے بعد تل ابیب حکومت پر عالمی برادری کا دباؤ بڑھنا شروع ہوا۔ فلوٹیلا نامی اس بحری جہاذ پر اسرائیلی کمانڈوز کے حملے میں 9 ترک باشندے ہلاک ہوئے تھے۔

Gazastreifen Küste Meer Blockade Schiffe kommen nach Gaza

غزہ کے ساحلی علاقےمیں اسرائیل کی ناکہ بندی

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کی ناکہ بندی کے ذریعے فلسطینی علاقوں میں حماس عسکریت پسند گروپ کی طرف سے اسلحے کی اسمگلنگ پر کنٹرول رکھنا چاہتا ہے۔

دریں اثناء ’ قدافی انٹر نیشنل چیریٹی اینڈ ڈیویلپمنٹ فاؤنڈیشن ‘ نے کہا ہے کہ 92 میٹر لمبا اور 302 فیٹ گہرے اس بحری جہاذ میں فلسطینی عوام کے ساتھ ہمدردی رکھنے والے متعدد امدادی کارکن اور فلسطینیوں کے حامی بھی سوار ہیں۔ قدافی فاؤنڈیشن کے ڈائرکٹر یوسف سووان کے بقول’ ہم غزہ کی جانب خالصتاً انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بڑھ رہے ہیں۔ ہمارا مقصد کسی کو مشتعل کرنا یا میڈیا کی توجہ حاصل کرنا نہیں ہے‘۔

اطلاعات کے مطابق جیسے جیسے امدادی جہاذ ’امالتھیا‘ غزہ کی طرف بڑھ رہا ہے، ویسے ویسے اسرائیل کی سفارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ اسرائیل کی وزارت داخلہ کے مطابق وزیر خارجہ لیبرمن نے یونان اور مالدویہ کے ہم منصبوں کے ساتھ اس بارے میں بات چیت کی ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: عابد حسین

DW.COM