1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ پٹی کی پھر ناکہ بندی

غزہ پٹی میں غذا اورایندھن کی کمی کے حوالے سے بین الاقوامی امدادی گروپوں کی جانب سے خبردار کئے جانے کے باوجود اسرائیل نے ایک بار پھر غزا پٹی کی ناکہ بندی کر دی ہے۔

default

اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے فلسطینی انتظامیہ کے صدر سے ملاقات میں کہا تھا کہ وہ فلسطینی علاقوں میں انسانی المیے کو جنم نہیں لینے دیں گے تاہم اسرئیل پر فلسطینی علاقوں سےمسلسل راکٹ حملوں کے بعد اسرائیل نے ایک بار پھرغزہ پٹی کی ناکہ بندی کر کے ترسیل کے راستے بند کر دیئے ہیں۔

اسرائیل نے دو ہفتے تک اشیا اور تیل کی غزہ پٹی تک ترسیل بند کئے رکھنے کے بعد پیر کے روز یہ پابندی اٹھائی تھی اورامدادی اشیا سے بھرے تینتیس ٹرکوں کو غزہ پٹی کی طرف جانے کی اجازت دی تھی۔

اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے فلسطینی انتظامیہ کے صدر سے ملاقات میں کہا تھا کہ وہ فلسطینی علاقوں میں انسانی المیے کو جنم نہیں لینے دیں گے تاہم اسرائیل پر فلسطینی علاقوں سےمسلسل راکٹ حملوں کے بعد اسرائیل نے ایک بار پھرغزہ پٹی کی ناکہ بندی کر کے ترسیل کے راستے بند کر دیئے ہیں۔ امدادی گروپوں کا کہنا ہے کہ غزہ پٹی میں پندرہ لاکھ فلسطینی آباد ہیں اورپیر کو روانہ کئے جانے والے ٹرک، آبادی کی ضروریات کے لحاظ سے ناکافی ہیں۔ اسرائیلی حکام کا مسلسل یہ کہنا ہے کہ فلسطینی علاقوں سے راکٹ حملوں کا سلسلہ بند نہیں ہو رہا۔

اس سے قبل پیر کے روزاسرائیل نے گزشتہ دو ہفتوں کے دوران پہلی مرتبہ غزہ پٹی سے ملحقہ سرحد کو امدادی سامان کے لئے کھول دیا تھا۔ اسرائیلی وزارت دفاع کے مطابق اشیائے خوردنوش لے جانے والے تینتیس ٹرکوں کو غزہ پٹی جانے کی اجازت دی گئی۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ اورفلسطینی انتظامیہ کے صدر محمود عباس کی یروشلم میں ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں محمود عباس نے اسرائیل کی جانب سے غزہ پٹی کی ناکہ بندی کو مجرمانہ عمل قراردیا۔ جبکہ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ اقدام غزہ پٹی سے کئے جانے والے راکٹ حملوں کا ردعمل ہے۔

Treffen Olmert und Abbas in Jerusalem

فلسطینی مذاکرات کارSaeb Erekat کے مطابق المرٹ نے محمود عباس سے یوروشلم میں ہونے والی ملاقات میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا عندیہ دیا۔

دوسری جانب فلسطینی اور اسرائیلی حکام کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم ایہود المرٹ نے فلسطینی انتظامیہ کے سربراہ محمود عباس سے ملاقات میں، خیر سگالی کے تحت اگلے ماہ ڈھائی سو فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا اشارہ دیا ہے۔

فلسطینی مذاکرات کارSaeb Erekat کے مطابق المرٹ نے محمود عباس سے یوروشلم میں ہونے والی ملاقات میں فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا عندیہ دیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم کے ترجمان ڈیوڈ بیکر نے قیدیوں کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ابھی اس حوالے سے تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا تاہم قیدیوں کی رہائی مسلمانوں کے مذہبی تہوار عید الضحیٰ پرمتوقع ہے۔