1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ پٹی میں اسرائیلیوں کے ہاتھوں 61 فلسطینی ہلاک

اسرائیلی فوج نے 2005ء کے موسمِ گرما میں غزہ پٹی سے اپنے انخلاء کے بعد سے وہاں شدید ترین کارروائی کرتے ہوئے 61 فلسطینیوں کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کر دیا ہے۔ اِس طرح چار روز پہلے شروع ہونے والی تازہ لڑائی میں اب تک 80 سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں۔ اسرائیلی ریڈیو کے مطابق اِس کارروائی میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ سات زخمی ہو گئے۔ اسرائیل کے مطابق اُس کی یہ کارروائی فلسطینیوں کی جانب سے سرحد پار اُن راکٹ حملوں کے

ہفتہ یکم مارچ کو اسرائیلی توپ خانے کا ایک متحرک یونٹ غزہ پٹی کے قریب فلسطینیوں پر گولے برساتے ہوئے

ہفتہ یکم مارچ کو اسرائیلی توپ خانے کا ایک متحرک یونٹ غزہ پٹی کے قریب فلسطینیوں پر گولے برساتے ہوئے

�واب میں تھی، جس میں چند روز پہلے سرحدی اسرائیلی شہر سدےروٹ میں ایک اسرائیلی شخص ہلاک جبکہ شہر اَیشکے لَون میں متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

اِن تازہ پرتشدد واقعات کا جائزہ لینے کے لئے نیویارک میں عالمی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا ہے، جس میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بن کی مُون نے اِس اسرائیلی کارروائی کو حد سے زیادہ قرار دیتے ہوئے اِس کی مذمت کی ہے۔

اِس سے پہلے غزہ پٹی میں شدید جھڑپوں کے پیشِ نظر فلسطینی قیادت نے اسرائیل کے ساتھ مجوزہ امن بات چیت منسوخ کر دی۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کی طرف سے بھی اِس بات کی تصدیق کر دی گئی۔ فلسطینیوں نے کہا ہے کہ اسرائیل نے امن عمل کو تباہ کر دیا ہے۔ انتہا پسند فلسطینی تنظیم حماس کے جلا وطن رہنما خالد مشعل نے اِس اسرائیلی کارروائی کو قتلِ عام قرار دیتے ہوئے اِسکی مذمت کی ہے۔ تاہم اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں کا یہ الزام غلط ہی نہیں، اشتعال انگیز بھی ہے اور یہ کہ خود حماس گذشتہ کئی برسوں سے اسرائیلی شہریوں کے خلاف جنگی جرائم کی مرتکب ہو رہی ہے۔

اُدھر خالد مشعل نے یہ بھی کہا کہ فلسطینیوں کیخلاف اِس حملے میں فلسطینی صدر محمود عباس بھی قصوروار ہیں، جنہوں نے حماس پر القاعدہ کی تائید و حمایت کرنے کا الزام لگا کر اسرائیل کو ایسی کارروائی کرنے کا بہانہ فراہم کیا۔