1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ پر تاحال خوف و حراس کے بادل

اتوار کے روز غزہ پر اسرائیلی حملے کے آغاز کا ایک سال گزر گیا ہے البتہ سردیوں کے اُن پریشان حال شب و روز کے بعد اب بھی غزہ میں انسانی المیے کا وہی حال ہے جو پہلے تھا۔ خوف و حراس کی فضا ہے اور لوگ سہمے ہوے ہیں۔

default

غزہ: اسرائیلی فوج کشی کے دوران زخمی ہونا والا ایک بچہ: فائل فوٹو

انتہاپسند تنظیم حماس کی جانب سے میزائل داغنے کے عمل کو روکنے کے سلسلے میں کی جانے والی اسرائیلی فوج کشی کا عمل ا‌ٹھارہ جنوری سال دوہزار آٹھ کو جنگ بندی میں تبدیل ہو گیا تھا۔ اُس جنگ بندی سے قبل تیرہ اسرائیلی جبکہ چودہ سو فلسطینی مارے جاچکے تھے جن میں چار سو بچے شامل تھے۔ زخمیوں کی تعداد ہزاروں میں تھی جبکہ غزہ شہر کی بے شمار عمارتیں تباہی کا شکار ہو چکی تھیں۔ اسرائیل پر ممنوعہ فاسفورس بموں کے استعمال کے الزامات بھی لگے۔

غزہ میں برسر اقتدار عسکری انتہاپسند تنظیم حماس نے جنگ بندی کے دن کو یوم فتح کے طور پر منایا۔ غزہ کی پارلیمان کے نائب اسپیکر احمد بہار نے

Hamas feiert Jahrestag und kündigt Überraschung an Ismail Hania

اسماعیل ہنیہ: غزہ پر حکومت کرنے والی انتہاپسند تنظیم حماس کے جھنڈےکے ساتھ

ٹھیک ایک سال قبل تقریباً تین ہفتے جاری رہنے والی جنگ میں مارے گئے چودہ سو سے زائد فلسطینیوں کی یادگار کی نقاب کشائی کی۔ اتوار کو سارا دن انتہاپسند تنظیم حماس کی زیر انتظام مساجد میں قران کی تلاوت کا سلسلہ جاری رہا۔ غزہ سٹی میں چھ تا بارہ سال کے بچوں نے شہر کی گلیوں میں مارچ کیا۔ غزہ میں حماس کے وزیراعظم اسماعیل ہنیہ کے بقول اسرائیل جنگ کے مقاصد میں ناکام ہوا تھا۔

اسرائیل میں گزشتہ روز البتہ اس جنگ کا کوئی تذکرہ سامنے نہیں آیاے۔ وزیراعظم بینجمن نیتین ہاہو نے اتحادی حکومت کی کابینہ اجلاس کی صدارت کی تاہم غزہ جنگ کا موضوع نہیں چھیڑا گیا۔ اسرائیل کے بقول غزہ پر حملے کا مقصد عسکریت پسندوں کی جانب سے اسرائیلی علاقوں پر راکٹ برسانے کے سلسلے کو ختم کرانا تھا۔ غزہ کے فلسطینیوں کے لئے اس جنگ کا بھیانک ترین دن ستائیس دسمبر کا تھا جب اسرائیلی طیاروں سے برسنے والے بموں نے دو سو بیس سے زائد افراد کو ایک ہی دن میں ہلاک کیا۔

Israelische Soldaten mit Munition

اسرائیلی توچ خانے کے فوجی: فائل فوٹو

سال دوہزار سات میں غزہ میں حماس کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ خطے میں صورتحال تاحال کشیدہ ہے۔ عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اسرائیل پر مسلسل دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ غزہ میں تعمیر نو کے لئے سامان کی ترسیل کی خاطر غزہ کا محاصرہ ختم کردے۔ تل ابیب حکومت کا البتہ مؤقف غزہ کا محاصرہ ختم کرانے کی فرمائش کرنے والے عسکری تنظیم حماس حکومت کی مبینہ دہشت گردی ختم کرائے۔ عالمی سطح پر طویل اور مسلسل سیاسی کوششوں کے باوجود، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے بقول مسئلہ کے حل کی جانب نہیں بڑھا جاسکا ہے۔ ان کے مطابق غزہ کے پندرہ لاکھ سے زائد فلسطینی ناامید ہورہے ہیں۔

رپورٹ : شادی خان

ادارت: عابد حسین

DW.COM