1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ ناکہ بندی: امدادی بحری جہاز روانہ

ترکی نے اسرائیل سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی حقوق کے کارکنوں کی طرف سے امدادی سامان کے بحری جہازوں کو غزہ میں داخلے کی اجازت دے دے۔

default

گزشتہ ایک برس سے زائد عرصے سے اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے، تاہم انسانی حقوق کی ایک ترک تنظیم ’’فریڈم اینڈ ہیومینی ٹیرین ریلیف‘‘ کے زیر قیادت تقریباً 750 بین الاقوامی کارکنان نے ادویات، خوراک اور تعمیراتی سازوسامان غزہ پہنچانے اور یوں امدادی کاموں کا سلسلہ آگے بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کارکنوں کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی ناکہ بندی کی موجودگی میں بھی غزہ پہنچنے کی کوشش ضرور کریں گے۔ دوسری جانب اسرائیل ان جہازوں کو غزہ پہنچنے سے روکنے اور ان پر موجود افراد کو گرفتار کرنے کی تیاری کر چکا ہے۔

NGO im Gazastreifen UNRWA Hilfsorganisation Gaza

ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ یہ امدادی بحری جہاز بدھ یعنی آج غزہ کی سمندری حدود میں داخل ہوں گے تاہم اب یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ بحری جہاز جمعے کے روز تک غزہ پہنچ پائیں گے۔ عسکریت پسند تنظیم حماس نے 2007ء میں غزہ پٹی کا کنٹرول سنبھالا تھا اور تقریبا تبھی سے اسرائیل نے غزہ پٹی کی ناکہ بندی بھی کر رکھی ہے۔

غزہ میں لگ بھگ کوئی ایک اعشاریہ پانچ ملین افراد کو پینے کے صاف پانی اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ان امدادی بحری جہازوں پر تقریباً دس ہزار ٹن طبی اشیاء اور گھروں کی تعمیر کے لئے استعمال ہونے والا سازوسامان لدا ہوا ہے۔ اسرائیل فلسطین قیام امن کوششوں کے سلسلے میں اقوامِ متحدہ کے ایک اجلاس میں شرکت کے بعد ترک وزیرخارجہ Ahmet Davutoglu نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ اس موقع پر صبروتحمل کی ضرورت ہے نہ کہ کسی ایسے اقدام کی، جس سے پہلے سے موجود تناؤ میں مزید اضافہ ہو جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ غزہ کی ناکہ بندی ختم ہو جانی چاہئے۔ ترک وزیرخارجہ کہا کہ اسرائیل حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے شہری کوششوں کا ساتھ دے۔

Gaza Humanitäre Lage

اس سے قبل بھی غزہ تک امدادی سامان کی منتقلی کی متعدد کوششیں کی جا چکی ہیں، جن میں سے زیادہ تر کو اسرائیل ناکام بنا چکا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ترکی اسرائیل کا واحد حمایتی ہے تاہم ترک وزیراعظم رجب طیب ایردوآن کی جانب سے فلسطینی باشندوں کے خلاف اسرائیل پالیسوں کو ایک عرصے سے تنقید کا سامنا ہے اور یہی تنقید ان دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کی وجہ بھی بنی ہوئی ہے۔

فلسطینی علاقوں کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصی کوآرڈینیٹر رابرٹ سرے کا کہنا ہے کہ پابندیاں عسکریت پسندوں پر لگائی جانی چاہئیں، نہ کہ عام شہریوں پر۔ انہوں نے غزہ کی ناکہ بندی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس سلسلے میں پریشانی کا شکار ہیں اور اس سے خطے میں موجود اعتدال پسند قوتوں کو دھچکہ پہنچا ہے جبکہ عسکریت پسندی کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے۔

غزہ کے شہریوں کے لئے امدادی سامان کے اس بحری قافلے میں برطانیہ، یونان، الجزائر، کویت، ملائیشیا اور آئرلینڈ کے بحری جہاز بھی شامل ہیں جبکہ ان جہازوں پر تقریباً 20 ملین ڈالر مالیت کا سامان لدا ہوا ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجد علی

DW.COM