1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ ناکہ بندی، اسرائیلی کابینہ کا اجلاس

غزہ کی ناکہ بندی کے حوالے سے امکانات ظاہر کئے جا رہے تھے کہ بدھ کے کابینہ اجلاس میں کوئی فیصلہ ممکن ہے، جو نہیں ہو سکا لیکن امید کی جا رہی ہے کہ اگلے دنوں میں اس مناسبت سے مثبت پیش رفت ہو سکتی ہے۔

default

اسرائیلی وزیر اعظم پارلیمنٹ میں: فائل فوٹو

اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں غزہ ناکہ بندی کے معاملے پر بحث ضرور کی گئی لیکن شرکاء کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچ پائے۔ اسرائیلی کابینہ کی سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس جمعرات کو بھی شیڈیول ہے۔ اسرائیل غزہ کے لئے مزید کچھ سامان کی اجازت دینے پر غور کر رہا ہے لیکن وہ بدستور غزہ کے قریبی سمندر کا ناکہ ختم کرنے پر تیار نہیں ہے۔ گزشتہ روز ہونے والی اسرائیلی کابینہ کی میٹنگ بند کمرے میں ہوئی تھی۔

Palästinensische Kinder an der Grenze

غزہ پٹی کے بچے مصری سرحد کے نزدیک لگی خاردار باڑھ کے قریب: فائل فوٹو

دوسری جانب اسرائیل کے اندر ایسے اشارے سامنے آ رہے ہیں کہ غزہ امدادی سامان لے جانے والے بحری جہاز پر کی جانے والی فوجی کارروائی کے نتیجے میں عالمی سطح پر پائی جانے والی تنقید اور مذمت کے مدنظر اسرائیل ، غزہ پٹی کی جاری ناکہ بندی کی شرائط میں ہلکی پھلکی نرمی پیدا کرنے والا ہے۔ بدھ سے بینجمن نیتن یاہو نے اپنی کابینہ کے سینئر وزرا سے مشاورت کا عمل شروع کردیا ہے۔ اس سلسلے میں جمعرات کو کوئی فیصلہ سامنے آ سکتا ہے۔ اسرائیل کا اصرار ہے کہ امدادی سامان کی آڑ میں ہر قسم کےاسلحے کی ترسیل غزہ کے انتہاپسندوں کو کسی طور نہیں ہونی چاہیے۔

یورپی یونین کی خارجہ امور کی چیف کیتھرین ایشٹن کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی میں نرمی پیدا کرتا ہے تو امکانی طور پر یونین کا نیول مشن غزہ کے لئے امدادی سامان کی ترسیل کے عمل کی نگرانی کر سکتا ہے۔ یورپی پارلیمنٹ کے اندر فلسطینیوں کے حامی گروپ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ اگلے ماہ ایک اور امدادی جہاز کو غزہ روانہ کیا جائے گا۔

اس دوران اسرائیل کے اندر غزہ کے لئے امدادی سامان لے کر جانے والے بحری جہازوں پر فوجی کارروائی کی انکوائری کمیٹی کا پہلا اجلاس بھی گزشتہ روز ہوا۔ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ چھان بین کا عمل جلد از جلد مکمل کرنے کا

Nahost Gespräche George Mitchell Mahmud Abbas NO-FLASH

امریکی ایلچی جورج میچل فلسطینی لیڈر محمود عباس کے ساتھ: فائل فوٹو

ارادہ رکھتی ہے۔ کمیٹی کے چیرمین اسرائیلی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جیکب ترکل ہیں۔ کمیٹی نے اپنی انکوائری کے لئے بنیادی راہ نما اصول بدھ کے روز مرتب کرلئے ہیں۔ اس کمیٹی کے روبرو وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سمیت وزیر دفاع اور فوجی سربراہ پیش ہو سکتے ہیں۔ کمیٹی کے کل پانچ اراکین ہیں جن میں تین کو حتمی فیصلے میں ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔ دو دیگر اراکین کمیٹی کے رکن ضرور ہیں لیکن وہ ووٹ کے حق سے محروم ہیں۔ یہ دونوں غیر ملکی ممبر بدھ کی میٹنگ میں موجود نہیں تھے۔ ان میں شمالی آئر لینڈ کے نوبل انعام یافتہ سیاستدان ڈیوڈ ٹرِمبل اور کینیڈا کے وکیل کین واٹکن شامل ہیں۔ کمیٹی کی کارروائی بیک وقت عبرانی اور انگریزی میں ہو گی۔

مشرق وسطیٰ میں تازہ ترین پیش رفت یہ ہے کہ امریکی صدر اوباما کے خطے کے خصوصی ایلچی جورج میچل اسرائیل پہنچ گئے ہیں۔ موجودہ دورے کے دوران میچل اسرائیلی حکام سے جمعرات کو اور فلسطینی لیڈروں سے جمعہ کو ملاقاتیں کریں گے۔ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق جورج میچل مصر میں قیام کے بعد واپس امریکہ روانہ ہو جائیں گے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM