1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

غزہ میں محرومی: عوامی حمام، ایک تفریح

غزہ پٹی کے محصور فلسطینی علاقے میں لاکھوں شہریوں کو کافی عرصے سے بہت تکلیف دہ صورت حال کا سامنا ہے لیکن ان حالات میں وہاں صدیوں پرانا ایک عوامی حمام شہریوں کے لئے کسی حد تک ذہنی اور جسمانی دباؤ دورکرنے کا ذریعہ ہے۔

default

غزہ سٹی کے عوام ایک عرصے سے جنگ و جدل کا شکار ہیں

غزہ سٹی کی پرہجوم گلیوں کے نیچے صدیوں پرانے ایک حمام میں مراد عود اپنے مرد گاہکوں کے تھکے ہوئے جسموں کی مالش کرتے ہوئے انہیں نہ صرف تازہ دم کر دیتا ہے بلکہ یوں اپنی محرومی اور عمومی حالات زندگی سے عاجز ان گاہکوں کو نفسیاتی طور پر ایک نئی توانائی بھی مل جاتی ہے۔ اس حمام کا نام حمام الثمرہ ہے، جو غزہ سٹی اور غزہ پٹی کے ناگفتہ بہ حالات کے باوجود آج بھی ایک طرح سے غزہ کے شہریوں کی سماجی خدمت کر رہا ہے۔

اس حمام میں آج کل مختلف ایشیائی ملکوں میں مروجہ جسمانی مالش کے طریقے استعمال میں لائے جاتے ہیں تاکہ آئے روز کے ہنگاموں اور خونریز جھگڑوں سے تنگ آ چکے فلسطینی باشندوں وہاں سکون کے چند لمحات میسر آ سکیں۔

Al Hammam Damaskus

حمام کا رواج عرب اور ترک معاشروں میں بہت قدیم ہے

مراد کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنے گاہکوں کی گلاب کے عرق سے مالش کرتا ہے، تو اکثر اس کی گفتگو کا موضوع یہی ہوتا ہے کہ کس طرح جسم اور روح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور کس طرح ایک اچھے ذہن اور مثبت سوچ کے لئے صحت مند جسم اور تعمیری سوچ بھی بہت ضروری ہیں۔

مراد عود کا کہنا ہے کہ جب اس کے گاہک حمام الثمرہ میں داخل ہوتے ہیں تو ان کا باہر کی دنیا سے رابطہ کٹ جاتا ہے اور خود اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ غزہ کے یہ شہری واپسی سے پہلے خود کو ہر حوالے سے بہت ہلکا پھلکا محسوس کریں۔

مراد کے بقول: ’’2008 ء میں 22 روز تک جاری رہنے والے اسرائیلی حملوں کے بعد اس حمام میں کئی روز تک ایسے گاہک آتے رہے، جو سخت ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور بہت ڈرے ہوئے ہوتے تھے۔

یہ حمام غزہ سٹی کی ایک تنگ گلی میں واقع ہے، جہاں آنے والوں کو جھک کر ایک محرابی دروازے سے گزرنا پڑتا ہے۔ پھر سیڑھیوں سے نیچے اتر کر گاہکوں کو بل کھاتے راستوں سے گذر کر پتھروں سے بنے چھوٹے چھوٹے کمروں میں جانا ہوتا ہے، جہاں گرم پانی اور بھاپ کے ماحول میں ایک ایسی دنیا قائم ہے، جو ہر مہمان کو اس کی تھکن سے آزاد کر دیتی ہے۔

Orientalisches Hamam Dampfbad in Düsseldorf

گرم حمام جسم اور روح کو تازگی بخشتا ہے

اس حمام کی ایک دیوار پر لگی ایک چھوٹی سے لیکن بہت پرانی تختی پر یہ بھی درج ہے کہ اس عوامی غسل خانے کی آخری مرتبہ اندرونی تزئین و آرائش تیرہویں صدی عیسوی میں اس سلطنت مملکوکیہ کے دور میں کی گئی تھی، جس کا دارالخلافہ قاہرہ تھا۔ اس حمام کے مالک سلیم الاوزیر کا دعویٰ ہے کہ غزہ کا یہ حمام قریب ایک ہزار برس پرانا ہے۔

اس حمام کی ایک دیوار پر مرحوم فلسطینی صدر یاسر عرفات کی ایک بہت بڑی تصویر بھی لگی ہوئی ہے۔ اس لئے کہ حمام کے مالک سلیم الاوزیر کا پورا خاندان یاسر عرفات کی فتح تحریک کا حامی رہا ہے لیکن اس حمام کے دروازے ہمیشہ ہی تمام فلسطینیوں کے لئے کھلے رکھے جاتے ہیں۔ اب وہاں جانے والوں میں 2007 ء سے غزہ پٹی پر حکمران فلسطینی تحریک حماس کے کئی رہنما بھی شامل ہوتے ہیں۔

Gesundheitstourismus Massage im Hamam

یورپی معاشروں میں حمام، صحت افزا سیاحت کا ایک اہم جُز ہے

وزیر ایک خوش مزاج شخص ہیں اور سب کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’’اس حمام کے دو حصے ہیں۔ مردانہ اور زنانہ۔ حماس کے لوگ اکثر یہاں آتے ہیں۔ ان میں مرد بھی شامل ہوتے ہیں اور خواتین بھی۔ ہم جملہ مسائل کو اس حمام سے دور رکھنا چاہتے ہیں تاکہ اس جگہ کی صدیوں پرانی روایت برقرار رکھی جا سکے۔‘‘

رپورٹ: بریخنا صابر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس