1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

غزہ میں فعال امدادی اداروں کے کارکنوں کی سخت اسرائیلی نگرانی

اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے حالیہ کچھ روز میں غزہ میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف دو اہم امدادی اداروں کے دو عہدیداروں کو حراست میں لے لیا جس سے غزہ میں کام کرنے والے ان اداروں کی سخت اسرائیلی نگرانی کا پتہ چلتا ہے۔

گزشتہ منگل کے روز اسرائیلی سکیورٹی ادارے شین بیت نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام UNDP کے ایک انجینیئر وحید بورش کو حماس کی بحری فورسز کے لیے اڈے کی تعمیر میں معاونت کا الزام عائد کرتے ہوئے گرفتار کر لیا۔ شین بیت کے مطابق بورش نے حماس کی جانب سے استعمال کی جانے والی سرنگوں کے حوالے چشم پوشی کی تھی اور ان علاقوں میں آباد کاری کے زیادہ منصوبے ترتیب دیے، جہاں حماس زیادہ فعال ہے۔

بورش کے خلاف عائد کردہ اسرائیلی الزامات تاہم جمعرات کو کرسچین چیریٹی ’ورلڈ وژن اِن غزہ‘ نامی تنظیم کے رکن محمد الحلبی پر عائد کیے گئے الزامات سے کم سنگین نوعیت کے ہیں۔ الحلبی پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اس خیراتی ادارے کے غزہ کے لیے بجٹ میں سے ساٹھ فیصد حصہ حماس کو دے دیا۔ شین بیت نے ’سیو دا چلڈرن‘ نامی بین الاقوامی امدادی ادارے کے ایک ملازم پر بھی الزام عائد کیا ہے کہ وہ حماس کا رکن ہے۔ ان تمام امدادی اداروں نے ان اسرائیلی الزامات کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنی اور اپنے کارکنوں کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھتے ہیں۔

Hebron Abriss von Haäusern in Westjordanland

غزہ میں متعدد امدادی تنظیمیں فعال ہیں

شین بیت کے سابق ڈائریکٹر اوی ڈیشٹر نے ایک اسرائیلی ریڈیو چینل کو دیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے فلسطینی مہاجرین کی بہبود کے ادارے UNRWA کے سو فیصد ارکان ’حماس کے ساتھ ملے ہوئے ہیں‘ جب کہ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بین الاقوامی ڈونر برادری غزہ میں امداد اور وہاں حماس کی سرگرمیوں کے حوالے سے ’مکمل ناواقفیت کا شکار‘ ہے۔

اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان ایمانویل ناہشون نے کہا کہ امدادی اداروں کو ہر حال میں دیکھنا چاہیے کہ ان کا مہیاکردہ سرمایہ کہیں حماس کے ہاتھ تو نہیں لگ رہا۔ انہوں نے کہا کہ ان اداروں کو سرمائے کی ترسیل اور اس کے استعمال کے حوالے سے ایک بہتر نظام کو یقینی بنانا چاہیے۔

غیرسرکاری تنظیموں پر نگاہ رکھنے والے ایک اسرائیل نواز ادارے کے سربراہ گیرالڈ اسٹائن برگ کا کہنا ہے کہ امدادی اداروں کو اپنے ملازمین کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے کے لیے نگرانی اور خفیہ ٹیکنالوجی کا استعمال کرنا چاہیے۔ ’’سرمایہ حماس کے ہاتھ لگنے سے روکنے میں ناکامی ظاہر کرتی ہے کہ یہ ادارے بہتری نہیں چاہتے۔‘‘

دوسری جانب امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ وہ غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں اپنی سرگرمیوں پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ غزہ میں فلسطینیوں کو پانی، خوراک اور زرعی تعاون فراہم کرنے والی تنظیم آکسفیم کا کہنا ہے کہ وہ اپنی طرف سے امداد کی صرف اور صرف مستحق افراد ہی کو فراہمی کے لیے نہایت سخت کنٹرول سسٹم کی حامل ہے۔

کرسچین چیریٹی ورلڈ وژن کا بھی کہنا ہے کہ وہ آڈٹ کے ایک سخت نظام کی حامل ہے اور اپنے ملازمین کی سرگرمیوں سے پوری طرح باخبر رہتی ہے۔