1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ میں دیرپا فائر بندی کے لئے یورپی کوششیں

اسرائیل اور حماس کے مابین فائربندی کے بعد یورپی یونین غزہ پٹی کے علاقے میں دیرپا جنگ بندی کے لئے بیک وقت کئی مختلف پہلوؤں سے خطے میں استحکام کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔

default

جرمن وزیر خارجہ شٹائن مائر اپنے گذشتہ دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران اسرائیلی صدر شمون پیریز کے ہمراہ

وفاقی جرمن وزیرخارجہ فرانک والٹرشٹائن مائر نےیورپی یونین کی رضامندی سے طے پانے والے ایک ایسے پانچ نکاتی منصوبے کی تفصیلات جاری کردی ہیں جس میں فوری اقدام کے طور پر فلسطینی خود مختارعلاقوں کے عوام کے لئے انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

Palästinenser bergen Tote und Verletzte

غزہ کی حالیہ جنگ میں کم ازکم 1300 فلسطینی ہلاک ہوئے

اسی دوران یورپی یونین کے کئی رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ نے علاقے کی ریاستوں میں اپنے ہم منصب وزراء کے ساتھ ملاقاتوں کا اعلان بھی کیا ہے۔

دریں اثناء اتوار کے روز اسرائیل اور حماس کی جانب سے فائر بندی کے اعلان کے بعد سے فریقین ایک دوسرے پر حملوں سے اجتناب کئے ہوئے ہیں اور پیر کے دن سے اسرائیل نےغزہ پٹی کے علاقے اپنا فوجی انخلاء بھی شروع کررکھا ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمیرٹ کے مطابق ان کی حکومت کی خواہش ہے کہ یہ انخلاء جلد از جلد مکمل ہو جائے۔

اسی بارے میں اسرائیلی حکومتی ذرائع کے تازہ ترین بیانات میں کہا گیا ہے کہ غزہ پٹی کے علاقے اسرائیلی فوجی انخلاء غالبا آج منگل کی شام تک پورا ہو جانے گا۔

ایہود اولمیرٹ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج کے مکمل انخلاء کے لئے مستقل اور پائیدار جنگ بندی کا معاہدہ ناگزیر ہے جبکہ فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس نے بھی اپنی طرف سے ایک ہفتے کے لئے جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی افواج ایک ہفتہ کے اندر اندر غزہ پٹی کا علاقہ مکمل طور پر خالی کردیں اور غزہ پٹی کی ناکہ بندی بھی ختم کی جائے۔

اسرائیل اور حماس کے عسکریت پسندوں کےمابین تین ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں، جو 27 دسمبر کی رات غزہ پٹی کے علاقے پر اسرائیلی جنگی طیاروں کے فضائی حملوں سے شروع ہوئی، سینکڑوں عورتوں اور بچوں سمیت کم ازکم 1300 فلسطینی اور 10 فوجیوں سمیت کل 13 تیرہ اسرائیلی ہلاک ہوئے۔