1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ میں 'جنگی جرائم' ہوئے، اقوام متحدہ

اقوامِ متحدہ کی ا یک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آٹھ ماہ پہلے کی غزہ جنگ میں اسرائیلی اور فلسطینی دونوں ہی متعدد جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے۔ تحقیقات کرنے والی ٹیم کے سربراہ رچرڈ گولڈسٹون نے کل منگل کو رپورٹ کی تفصیلات بتائیں۔

default

Richard Goldstone

اقوام متحدہ کی ٹیم کے سربراہ رچرڈ گولڈسٹون

رچرڈ گولڈسٹون نے نیویارک میں بتایا کہ اُن کی ٹیم کے پاس اپنے دعوے کے حق میں ٹھوس شواہد موجود ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی 574 صفحات پر مبنی یہ رپورٹ ابھی انٹرنیٹ پر جاری کی گئی ہے جبکہ اِس ماہ کے آخر میں جنیوا میں اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کونسل کے سامنے پیش کی جائے گی۔ اِس ٹیم کی قیادت ایک جنوبی افریقی جج رچرڈ گولڈ سٹون کر رہے تھے، جو خود بھی ایک یہودی ہیں۔ گولڈ سٹون کے خیال میں اسرائیلی حملے کا ایک ہی مقصد تھا اور وہ یہ کہ غزہ پٹی کی شہری آبادی کو نشانہ بنایا جائے اور اُسے سزا دی جائے۔ گولڈ سٹون کا کہنا ہے:

Benjamin Netanjahu

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو، اسرائیلی حکام نے اقوام متحدہ کی رپورٹ مسترد کر دی ہے

’’وہاں ہمیں جوحقائق ملے، اُن کی بنیاد پر ہم اِس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ غزہ میں فوجی کارروائیوں کے دوران اسرائیل سے بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئی ہیں۔ ہماری ٹیم کے خیال میں اسرائیلی افواج ایسی کارروائیوں کی مرتکب ہوئی ہیں، جنہیں جنگی جرائم اور کچھ صورتوں میں ممکنہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم بھی کہا جا سکتا ہے۔‘‘

اسرائیل نے اس رپورٹ کو سختی سے رد کر دیا ہے اور اِسے اپنے شہریوں کو دہشت گردی سے بچانے کی کوشش کرنے والی حکومتوں کے لئے ایک بڑا دھچکہ قرار دیا ہے۔ اِس رپورٹ میں اسرائیلی سرزمین پر فلسطینی حملوں کی بھی مذمت کی گئی ہے۔ گولڈ سٹون کے مطابق فلسطینی حملوں کا ہدف بھی کوئی فوجی تنصیبات نہیں تھیں، اِس لئے اِن حملوں کا مقصد بھی شہری آبادی کو ہی نشانہ بنانا تھا۔

’’جہاں تک مسلح فلسطینی گروپوں کا تعلق ہے، تو اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ راکٹ اور مارٹر پھینکنے کی کارروائیوں کا مقصد سیدھے سیدھے شہریوں کو ہلاک اور زخمی کرنا اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچاناہے۔ ہماری ٹیم کے خیال میں یہ کارروائیاں بھی سنگین جنگی جرائم اور ممکنہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کی ذیل میں آتی ہیں۔‘‘

دونوں فریقوں کے خلاف ان سنگین الزامات کے بعد اِس بات کے امکانات بڑھ گئے ہیں کہ دونوں کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں جوابدہ ہونا پڑے گا۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے اقوام متحدہ کے اِس مشن کے ساتھ یہ کہہ کر تعاون کرنے سے انکار کر دیا تھا کہ اِس مشن کو روانہ کرنے والی یُو اَین حقوقِ انسانی کونسل جانبدار ہے۔ گذشتہ موسمِ سرما کی اِس جنگ میں تقریباً ایک ہزار چار سو فلسطینی ہلاک ہو گئے تھے، جن کی بڑی تعداد بچوں اور نوعمروں کی تھی۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM