1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات کی تفتیش ہونی چاہئے، جنرل اسمبلی

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینیوں پر جنگی جرائم کے الزامات کی تفتیش ہونی چاہئے۔ اس بارے میں جنرل اسمبلی میں 192 ممالک کے نمائندوں پر مشتمل ایک پینل نے دو روز کی طویل بحث میں حصہ لیا-

default

بحث کے بعد گولڈ اسٹون رپورٹ پر ہونے والی ووٹنگ میں جنرل اسمبلی کی طرف سے جرائم کے الزامات کی تفتیش کے حق میں ووٹ دیا گیا۔ اس پر اسرائیل نے سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ رواں برس کے اوائل میں اقوام

Angriffe im Gazastreifen

اقوام متحدہ نے دونوں فریقین کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا ہے

متحدہ کی طرف سے سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں بھی اسرائیل اور حماس کے مابین سن دو ہزار آٹھ کے اواخر اور دو ہزارنوکے اوائل میں ہونے والی جنگ کے دوران دونوں طرف سے جنگی جرائم کے سرزد ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی۔

دریں اثناء ایک جنوبی افریقی وکیل اور اقوام متحدہ کے چیف پروسیکیوٹر رچرڈ گولڈاسٹون اور ان کی ٹیم نے غزہ کی اْس جنگ کے بارے میں تحقیق کرنے کے بعد اس میں دونوں فریقین کی طرف سے جنگی جرائم کے ارتکاب پر روشنی ڈالی تھی۔

اس رپورٹ پر اسرائیل کی طرف سے سخت رد عمل کا اظہار ہوا- ادھر عرب ممالک نے ایک مسودہ تیار کیا جس میں تین ہفتوں تک جاری رہنے والی اس جنگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ضمن میں اسرائیل اور فلسطین دونوں طرف سے آزادانہ اور غیر جانبدارانہ چھان بین کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔

اگرچہ عرب ممالک کی طرف سے تیار کردہ یہ مسودہ کسی بھی فریق کو اس پر عمل درآمد کا پابند نہیں کرتا تاہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اس پر بحث کے بعد ہونے والی ووٹنگ میں 114 ووٹ جنگی جرائم کے الزامات کےبارے میں تفتیش کرانے کے حق میں دیے گئے جبکے

Gaza Angriff Israel

رواں برس کے اوائل میں غزہ پر اسرائیلی حملے کے دوران ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے

اس کی مخالفت میں محض 18 ووٹ پڑتے۔

امریکہ اور اسرائیل کے علاوہ 44 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا- عرب ممالک کا مسودہ قرارداد دراصل رچرڈ گولڈ اسٹون کی مشاورت سے تیار کیا گیا- یہ دراصل اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی 575 صفحات پر مشتمل رپورٹ کا رد عمل ہے۔

ذرائع کے مطابق اسرائیل نے گولڈ اسٹون کے ساتھ رپورٹ تیار کرنے میں تعاون نہیں کیا تھا- اس پر والتھم کی برنڈس یونیورسٹی میں منعقدہ ایک فورم میں اسرائیل کی طرف سے تعاون نہ کئے جانے کی سخت مذمت بھی کی گئی۔ گولڈ اسٹون رپورٹ میں اسرائیل اور فلسطینیوں دونوں سے کہا گیا ہے کہ وہ چھ ماہ کے اندر اندر آزادانہ اور مستند تفتیشی رپورٹیں پیش کریں، بصورت دیگر دونوں کو دی ہیگ کی بین الاقوامی عدالت میں طلب کیا جانا چاہئے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM