1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی جاری

غزہ پٹی میں اسرائیلی کارروائیاں منگل کو 18ویں روز بھی جاری رہیں۔ غزہ سٹی میں اسرائیلی فوجیوں اور حماس کے عسکریت پسندوں کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

default

اسرائیلی زیزور فوج کے اہلکار کارروائی کے دوران

تاہم آج صبح کو اسرائیل کی جانب سے غزہ میں امدادی اشیا کی ترسیل کے لئے تین گھنٹے کے لئے عارضی فائربندی رہی۔

اسرائیل کی جانب سے عارضی فائربندی کا آغاز منگل کی صبح نو بجے ہوا۔ اس دوران امدادی اشیا کے ٹرک غزہ میں داخل ہوئے۔ ریڈ کراس کے سربراہ Jacob Kellenberger بھی غزہ پہنچے۔ یورپی یونین نے بھی غزہ کے انسانی بحران کے حوالے سے ایک ڈونر کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

Nahostreise Außenminister Frank-Walter Steinmeier in Ägypten mit Präsident Hosni Mubarak

جرمن وزیر خارجہ ازٹائن مائر، مصری صدر حسنی مبارک کے ہمراہ

اُدھر اسرائیل اور حماس کے درمیان فائربندی کے لئے عالمی کوششیں بدستور جاری ہیں۔ اس حوالے سے اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری بان کی مون بدھ کو مصر اور اردن میں مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقات کریں گے۔ وہ اسرائیل، ترکی، لبنان، شام اور کویت کا دورہ بھی کریں گے۔ بان کی مون نے مشرق وسطیٰ روانگی سے قبل صحافیوں سے بات چیت میں کہا: "لڑائی بند ہونی چاہئے، میں دونوں فریقین سے کہتا ہے کہ اب بس کریں! انسانیت کے ناطے اور بین الاقوامی قوانین کے تناظر میں بھی اس قرارداد پر عمل کیا جانا چاہئے۔"

UN-Hilfslieferungen für eingeschlossene Palästinenser an der Grenze zwischen Israel und Gaza

اقوام متحدہ کی غزہ کے لئے امدادی اشیا سیکیورٹی چیک پوسٹ پر غزہ روانگی سے پہلے

دوسری جانب جرمنی کے وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے اپنی اسرائیلی ہم منصب زیپی لیونی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔ جرمن وزارت خارجہ کے ایک اعلامئے کے مطابق شٹائن مائر نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقین کو جنگ بندی کے لئے بھرپور کوششیں کرنی چاہئیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ حماس کی جانب سے راکٹ حملے رکنے تک جنگ جاری رہے گی۔ اسرائیلی وزیر خارجہ زیپی لیونی نے اپنا حکومتی مؤقف کچھ یوں بیان کیا: "ہم عالمی برادری سے یہ نہیں کہتے کہ ہمارے ساتھ اس جنگ میں شامل ہوں، ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ یہ کام جاری رکھنے کے لئے وقت دیں۔‘‘

ban ki moon

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون، مصری وزیر خارجہ احمد عبدالغائیط کے ہمراہ

حماس کے رہنما اسمٰعیل ہنیہ نے بھی ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ وہ لڑائی جاری رکھیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس فتح کے قریب ہے۔

گزشتہ رات اسرائیل نے غزہ پٹی پر 60 فضائی حملے کئے۔ اس دوران حماس اور اس کے اتحادیوں نے اسرائیلی علاقوں پر چار راکٹ فائر کئے۔ غزہ کے حالیہ تنازعے میں اب تک کم از کم 930 فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 13 اسرائیلی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔