1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

غزہ جنگ کے ایک سال بعد بھی محاصرہ ختم ہونے کے منتظر فلسطینی

غزہ جنگ کو تقریباً ایک سال مکمل ہو چکا ہے تاہم علاقے کی صورتحال ابھی بھی دگرگُوں ہے۔ محصور فلسطینیوں کی حالتِ زار کے بارے میں ایک رپورٹ لندن میں جاری کی گئی ہے۔

default

اِس رپورٹ کے مطابق غزہ کی تعمیر نو کے لئے اربوں ڈالر کی امداد کے وعدے تو کر دئے گئے ہیں تاہم ضروری سامان کی غزہ منتقلی کے لئے وہاں کا محاصرہ ختم نہیں کرایا جا سکا ہے۔ یہ رپورٹ سولہ یورپی سماجی تنظیموں نے غزہ جنگ کے ایک سال مکمل ہونے کے تناظر میں جاری کی ہے۔ لندن میں خدمت خلق کے برطانوی ادارے Oxfamکے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جیرمی ہوگز کا اس موقع پر کہنا تھا کہ بڑی عالمی طاقتوں نے غزہ کے شہریوں کو دھوکہ دیا ہے۔ ان کے بقول اسرائیل پر غزہ کا محاصرہ ختم کرانے کے لئے دباؤ نہیں ڈالا جا رہا، محض بیان بازی کی جا رہی ہے۔

Nahostreise Hillary Rodham Clinton 2009

امریکہ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو۔ فائل فوٹو

اسرائیل کا البتہ موقف ہے کہ غزہ کا محاصرہ ختم کرانے کی خواہش رکھنے والے پہلے حماس کی دہشت گردی کے خاتمے کو یقینی بنائیں۔ دریں اثناء مصری حکام نے بھی غزہ کے ساتھ ملحقہ اپنی سرحد کے اندر زیر زمین سٹیل کی باڑ تعمیر کرنے کی تصدیق کر دی ہے۔ اس باڑ سے اُن سرنگوں کا راستہ بند ہوجائے گا، جن کے ذریعے غزہ کے فلسطینی شہری ضرورت کی اشیاء حاصل کرتے ہیں۔

غزہ جنگ کواسرائیلی عسکری اصلاح میں Operation Cast Lead کا نام دیا جاتا ہے جبکہ مسلم دنیا اسے غزہ میں قتل عام کے مترادف قرار دیتی ہے۔ پچھلے سال اٹھارہ دسمبر کو غزہ کی موجودہ حکمراں عسکری جماعت حماس نے اسرائیل کے ساتھ چھ ماہ تک جاری جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حماس کی جانب سے اس اعلان کے ساتھ ہی اِس کے جنگجوؤں نے اسرائیل کی جانب راکٹ برسانے شروع کر دئے۔ جواب میں ستائیس دسمبر سے غزہ پٹی پر اسرائیلی فضائی بمباری کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ حماس نے میزائل حملے تیز کئے جبکہ اسرائیل کی جانب سے فضائی حملوں میں شدت دیکھی گئی، جن کے باعث سرکاری عمارتوں کے ساتھ ساتھ شہری آبادی کو بھی شدید جانی ومالی نقصان پہنچایا۔

Nach einer israelischer raketenattacke

ایک فلسطینی خاندان اسرائیلی بمباری سے بچنے کی کوشش کرتے ہوے۔ فائل فوتو

اسرائیلی زمینی دستوں نے تین جنوری کو غزہ میں داخل ہوکر کارروائیاں کیں۔ بالآخر اٹھارہ جنوری کو اس جنگ کا اختتام ہوا، جب دونوں فریقین کی جانب سے جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا۔ اکیس جنوری کو اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلاء مکمل ہوا۔ محتاط اندازوں کے مطابق چودہ سو سے زائد فلسطینی اس جنگ میں مارے گئے جبکہ ہلاک ہونے والے اسرائیلیوں کی تعداد تیرہ تھی۔

فضائی بمباری میں ممنوعہ فاسفورس بموں کا انکشاف بھی ہوا جبکہ درجنوں معصوم بچے بھی مارے گئے۔ غزہ پٹی کھنڈر میں بدل گئی، چار ہزار گھر تباہ اور چار لاکھ شہری بے گھر ہوئے۔ جنوبی افریقی جج گولڈ سٹون کی سربراہی میں جنگ کی تحقیقات کی گئیں، جن میں اسرائیلی حکومت اور فسلطینی عسکری تنظیم حماس کو ذمہ دار ٹہرایا گیا۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے تمام ذمہ داری اسرائیل پر ڈالی تاہم اسرائیل نے اِس رپورٹ کو جانبدارانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

رپورٹ : شادی خان

ادارت : امجد علی