1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

غزہ جنگ پر ایمنسٹی کی رپورٹ

اسرائیل نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی حالیہ رپورٹ میں غزہ میں جنگی جرائم کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ انسانی حقوق کے لئے سرگرم یہ ادارہ حماس کا آلہء کار ہے۔

default

جنگ میں غزہ کا انفراسٹکچر تباہ ہو کر رہ گیا

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ چھ ماہ قبل اسرائیل نے غزہ میں کئے جانے والے حملوں میں شہری آبادی کو دانستہ طور پر نشانہ بنایا تھا۔ اس رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ اسرائیل کے پاس بہت جدید اسلحہ ہے اور وہ شہری آبادی اور عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کے درمیان بآسانی فرق کر سکتا تھا۔

اسرائیل نے ایمنسٹی انٹر نیشنل کی اِس رپورٹ کو سرے سے ہی مسترد کر دیا ہے۔ اسرائیلی ملٹری کا کہنا ہے: ’’اس ادارے کی رپورٹ کی جانبداری سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ حماس جیسی دہشت گرد تنظیم کا آلہء کار بن گیا ہے۔‘‘

انسانی حقوق کے ماہر مارک گارلاسکو اسرائیل کے اس بیان سے بالکل اتفاق نہیں کرتے: ’’آپریشن کاسٹ لیڈ کے دوران اسرائیلی دفاعی فورسزکے ڈرون حملوں میں کم از کم 87 فلسطینی شہریوں کو غیر قانونی طور پر ہلاک کیا گیا تھا۔ یہ اسلحہ اور اس کا پلیٹ فارم، یعنی خود ڈرون ایسے ہتھیار ہیں، جو ٹھیک ٹھیک نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور دنیا میں بہت کم ملکوں کے پاس ہیں۔ ان ڈرونز کے حساس ترین آپٹک آلات حیرت انگیز طور پر قطعی انداز میں شہری آبادی اور دفاعی نوعیت کے ٹھکانوں میں فرق کرسکتے ہیں۔‘‘

Symbolbbild Fragezeichen Quiz

آپ کو یہی کوڈ تلاش کرنا تھا ۔ ہمیں یہ نمبر5430،تاریخ 03-04-05/07 اوراس رپورٹ کے بارے میں اپنی رائے ای میل یا ایس ایم ایس کر دیں۔

اسرائیل جس طرح سے جنگی جرائم کا مرتکب ہونے سے مسلسل انکار کر رہا ہے، اُس پر فلسطینی ڈاکٹر اور سیاستدان مصطفی برغوتی کہتے ہیں : ’’ہم صرف سچ جاننا چاہتے ہیں، مگر ساتھ ہی ہم پوری بین الاقوامی برادری سے اس حقیقت پر مناسب ردعمل کی بھی توقع کرتے ہیں۔ یہ ناقابلِ قبول ہے کہ اسرائیل ایسے کام کرے، جو بین الاقوامی قوانین کی صریحاً خلاف ورزی ہوں۔‘‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے علاوہ اقوام متحدہ اور ریڈ کراس نےبھی اپنی اپنی رپورٹ میں اسرائیل کی جانب سے 22 روز تک جاری رہنے والے حملوں میں عام شہریوں کےمارے جانے کی تصدیق کی ہے۔ اقوام متحدہ نے اس سلسلے میں کمیشن بھی تشکیل دیا ہے جو کہ اسرائیل کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کے الزامات کے سلسلے میں تحقیقات کر رہا ہے۔

گذشتہ سال دسمبر میں اسرائیلی حملوں میں تین سو بچوں سمیت 1400 فلسطینی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ سینکڑوں عمارتیں بھی تباہ ہوگئی تھیں۔

رپورٹ : میراجمال

ادارت : امجد علی

DW.COM