1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ جنگ: جنگی جرائم کے مرتکب نہیں، اسرائیل

اسرائیلی اورفلسطینی حکام نےغزہ جنگ انکوائری پراپنی اپنی تحقیقاتی رپورٹیں اقوام متحدہ کے حوالے کر دی ہیں۔ دونوں فریقین نے بائیس روزہ غزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم کی مرتکب ہونے سے متعلق الزامات مسترد کر دیے ہیں۔

default

اسرائیل نے اٹھارہ جنوری سن دو ہزار نو کو یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا

غزہ جنگ پر اسرائیل کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ میں اس بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا کہ آیا وہ اس جنگ میں جنگی جرائم کے مبینہ الزامات کی آزادانہ تحقیقات کروائے گا یا نہیں۔

جنوبی افریقہ کے بین الاقوامی جنگی جرائم کے استغاثہ رچرڈ گولڈ اسٹون کی سربراہی میں گزشتہ سال مرتب کی گئی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج اور فلسطینی جنگجو، دونوں ہی جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے۔

اسرائیل کی طرف سے پیش کی گئی چھیالیس صفحوں پر مشتمل رپورٹ میں ماہرین نے غزہ جنگ کے دوران کل ایک سو پچاس ایسے واقعات کا بغور مشاہدہ کیا، جن میں سے 36 واقعات مبینہ طور پرجنگی جرائم کے دائرے میں بیان کئے جاتے ہیں۔

اس رپورٹ میں اسرائیلی دفاعی فوج IDF کی طرف سے کی جانے والی کئی خطرناک غلطیوں کا اعتراف کیا گیا تاہم مجموعی طور پر تمام ایسے الزامات ردّ کئے کہ بین الاقوامی جنگی قوانین کے مطابق IDF جنگی جرائم کی مرتکب ہوئی ہے۔ حماس جنگجوؤں اور اسرائیل کے مابین 2008ء کےاواخرمیں ہوئی مختصر مگر خون ریز جنگ میں کوئی چودہ سو فلسطینی جبکہ تیرہ اسرائیلی ہلاک ہوئے۔

اسرائیلی وزیر دفاع ایہود باراک نے کہا ہے کہ اس رپورٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیلی فوج سب سے زیادہ ذمہ داراور سنجیدہ فوج ہے جو اخلاقیات کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنے فرائض سر انجام دیتی ہے۔ ایہود باراک نے گولڈ اسٹون رپورٹ کو غیر متوازن اور معتصب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس رپورٹ میں حقائق کو مسخ کیا گیا ہے۔

گزشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر اطلاعات Yuli Edelstein نے ایسے تمام مطالبات مسترد کر دئے تھے کہ اس حوالے سے کوئی آزادانہ اورغیرجانبدارنہ کمیشن بنایا جائے۔ دریں اثناء اسرائیلی انسانی حقوق کے نمایاں گروپوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ غزہ جنگ کی انکوائری کے لئے غیرجانبدار اور آزادانہ تحقیقات فوری طور پر شروع کردی جائیں۔

Israelische Soldaten mit Munition

حماس جنگجوؤں کی طرف سے مسلسل راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیلی فوجی نے ستائس دسمبر سن انیس سو آٹھ کو غزہ میں عسکری کارروائی شروع کی

دوسری جانب ہیومن رائٹس واچ نے غزہ جنگ پر حماس جنگجوؤں کی طرف سے پیش کردہ اس توجیہہ کو مسترد کر دیا گیا ہے کہ دوران جنگ حماس نے اسرائیلی شہریوں پر راکٹ حملے نہیں کئے بلکہ صرف اسرائیلی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ۔ حماس کی طرف سے پیش کردہ ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے دانستہ طور پر شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا اور اگر ان راکٹ حملوں سے کسی شہری کو اتفاقیہ نقصان پہنچا ہے تو اس کی غلط تشریح نہ کی جائے۔

پانچ سو پچہتر صفحوں کی گولڈ اسٹون رپورٹ میں تجویز کیا گیا کہ اگر اسرائیل اورحماس جنگجو غزہ جنگ کے بارے میں اپنی اپنی تحقیقاتی رپورٹوں میں مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتے تو اس معاملے کو دی ہیگ کی عالمی فوجداری عدالت کو سونپ دیا جائے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گل

DW.COM