1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ جنگ ، جرمن وزیرخارجہ کی ثالثی کوششیں

جرمنی اور برطانیہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ہتھیاروں کی اسمگلنگ کا راستہ روکنے کے معاہدے کی تفصیلات طے ہونے سے قبل ہی غزہ پٹی میں جنگ فوراً روک دی جائے۔

default

غزہ جنگ کے دوران جرمن وزیر خارجہ کا مشرق وسطی کا یہ دوسرا دورہ ہے

یہ بات جرمن چانسلر اینگلا میرکل نے آج برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن سے ملاقات کے بعد کہی۔ انہوں نے کہا کہ انسانی ہمدردی کے تحت جنگ بندی ضروری ہے تا کہ غزہ میں مصیبت زدگان کو فوری مدد بہم پہنچائی جا سکے۔

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر کل رات ہی ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کے دورے پر روانہ ہو گئے تھےاس سے قبل وفاقی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا:

سِول آبادی بلا شک و شبہ سخت مصیبت سے دوچار ہے۔ اب انسانی بحران سے بڑھ کر انسانی بربادی کا المیہ رونما ہو سکتا ہے۔ مصیبت زدگان کو ہماری مدد اور ہمارے ہمدردی کی ضرورت ہے۔

Steinmeier auf Nahost-Reise Treffen mit Israels Präsident Peres

اشٹائن مائر نے اسرائیلی صدر شمعون پیریز سے بھی ملاقات کی

اسرائیل میں شٹائن مائر نے آج قبل از دوپہر اسرائیلی صدر Schimon Peres، وزیر دفاع ایہود بارک اور اسرائیلی وزیر اعظم ایہود اولمرٹ سےملاقاتیں کیں۔ بعد ازاں انہوں نے فلسطینی وزیر اعظم سلام فیاد سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے اسرائیل کی جانب سے ہسپتالوں اور اقوام متحدہ کے امدادی دفاتر پر اسرائیلی طیاروں کی بمباری کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور ایسے اقدام کو ناقابل قبول قرار دیا۔ شٹائن مائر نے رملہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے بھی ملاقات کی۔ جس کے بعد عباس نے کہا کہ اگلے چند گھنٹے جنگ بندی کے حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ جرمن وزیر خارجہ اب مصر روانہ ہو رہے ہیں۔ جہاں مصری خفیہ سروس کے سربراہ عمر سلیمان سے بات چیت کریں گے۔ امید ہے کہ جنگ کو روکنے کی ان کی ثالثی کوششیں بارآور ثابت ہوں گیں۔

ادھر اسرائیلی فوج غزہ شہر پر آج بھی اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ وہ اپنے ٹینکوں اور توپ خانے سے شہر کے اندرونی حصے پر بمباری کر رہی ہے۔ اسرائیل کے بمبار طیاروں نے غزہ شہر میں اقوام متحدہ کے مرکزی دفتر کو بھی نشانہ بنایا۔ جس کے بعد یو این او نے بحران زدہ علاقے میں اپنی تمام امدادی کاروائیاں روک دی ہیں ہیں۔ مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ جب کہ زخمی ہونے والوں کی تعداد کئی ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ خود انسانی حقوق کی اسرائیلی تنظیموں نے بھی غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں کے قتل پر حکومت اور فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔