1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ : جنگ بندی کا اعلان متوقع

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمیرٹ غزہ میں یک طرفہ جنگ بندی کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔

default

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم جنگ بندی کا اعلان کرنے جا رہے ہیں۔

مختلف ذرائعے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمیرٹ سلامتی امور کی کابینہ کے اجلاس کے اختتام پر یہ اعلان کریں گے۔ یہ اعلان براہ راست ٹیلی ویژن خطاب کے ذریعے کیا جائے گا۔

قبل ازیں، فلسطینی عسکری تنظیم حماس کے ترجمان ابو ہمدان نےایک بیان میں کہا کہ جب تک غزہ میں اسرائیلی فوج موجود رہے گی اس وقت تک مزاحمت اور لڑائی جاری رہے گی۔

Ban Ki-moon Libanon Gaza-Krieg

بان کی مون نے بارہا فریقین سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔

اسرائیلی حملے: جنگ کے بائیسویں روز، ممکنہ جنگ بندی کے اعلان سے چند گھنٹوں قبل تک غزہ پر اسرائیلی حملے جاری رہے۔ فلسطینی طبی اہلکاروں کے مطابق اس جنگ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بارہ سو سے زائد ہے۔ ہفتہ کے روز،غزہ کے شمالی علاقے بیت الاحیا میں اقوام متحدہ کے زیر انتظام ایک اسکول کو اسرائیلی فوج نے ہدف بنایا۔اقوام متحدہ کے اہلکاروں کے مطابق اس میں دو بچے ہلاک، اور چودہ زخمی ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ نے اپنے سکول پر اسرائیلی بمباری کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Gaza-Krieg

اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے والے ایک فلسطینی بچے کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔

جنگی جرا‌ئم کی تحقیق کا مطالبہ : اقوام متحدہ کے ترجمان کرسٹوف گینیس کا کہنا ہے:’’سولہ سو افراد اس سکول میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ اسرائیلی فوج کو سمت بتانے والے آلے جی پی ایس سے معلوم تھا کہ وہاں کئی سو لوگ جمع ہیں۔ جب آپ اقوام متحدہ کے زیر انتظام سکول کی تیسری منزل کو براہ راست نشانہ بناتے ہیں تو اس کی تفتیش ہو نی چاہیے تا کہ پتا چل سکے کہ یہ جنگی جرم ہے کہ نہیں۔‘‘ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ سکول کی بمباری پر تحقیقات کر رہا ہے اور تحقیقاتی رپورٹ کے آنے کے بعد ہی کوئی بیان دیا جا ئے گا۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق غزہ کے شہریوں کو نہ صرف مسلسل اسرائیلی بمباری کا سامنا ہے بلکہ ان علاقوں میں شہریوں کو اشیائے خو ردو نوش اور پینے کا پانی تک میسر نہیں۔ اسپتالوں میں گنجائش سے زیادہ مریض بھرتی ہیں اور دوائیاں نا کافی ہیں۔

DW.COM