1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ تنازعہ: آگے کیا ہو گا ؟

اسرائیل اور حماس جنگ کے سولہویں دن میں داخل ہوگئے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے جنگ بندی کی اپیلوں کے باوجود زمینی اور فضائی حملے جاری ہیں۔

default

یورپ کے مختلف شہروں بشمول پیرس،اوسلو، برلن اور ایتھنز میں اسرائیل کے خلاف مظاہرے ہوئے جن میں سے اکثر کا اہتمام بائیں بازو کی جماعتوں اور تنظیموں نے کیا۔

فلسطینی اموات کی تعداد 850سے تجاوز کر چکی ہے، جن میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔ تین اسرائیلی شہری اور دس فوجی حماس راکٹ حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں۔

اب حالات کیا ہیں؟

اسرائیل نےاپنے ٹینک اور پیدل فوج حماس کے زیر انتظام غزہ پٹی کے علاقے میں بھیجے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی فضائی اور بحری حملے بھی جاری ہیں۔ اسرائیلی کمانڈروں کے مطابق حماس کی تقریباً تمام عسکری طاقت کمزور کر دی گئی ہے جبکہ حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج ابھی تک اپنے مشن میں مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکی اور حماس کی جانب سے جنوبی اسرائیل پر راکٹ حملے جاری ہیں۔

سفارتی سطح پر فریقین نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جنگ بندی قرارداد کو مسترد کر دیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ اسرائیلی دفاعی حکام پیر کے روز قاہرہ جائیں گے ،جہاں وہ مصر۔یورپ جنگ بندی تجویز پر مذاکرات کریں گے۔ اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ حماس کی جانب سے راکٹ حملے مکمل طور پر بند ہوں اور ساتھ ہی اسرائیل کو علاقائی اور عالمی برادری یہ ضمانت دے کہ حماس کو سرحدی سرنگوں سے اسلحے کی اسمگلنگ سے روکا جائے گا۔

Trauer um Nizar Rayan in Palästina

اسرائیل ہر دوپہر تین گھنٹوں کے لیے بمباری روکتا ہے تاکہ فلسطینی عام شہری اشیائے ضرورت خرید سکیں اور ہلاک ہونے والوں کی تدفین کر سکیں۔

دوسری جانب حماس کا مطالبہ ہے کہ کسی طرح کے جنگ بندی معاہدے کے لیے شرط یہ ہے اسرائیل غزہ پٹی کی ناکہ بندی مکمل طور پر ختم کردے اور علاقے سے اسرائیلی فوج کو ہٹالیا جائے، ۔وہ علاقہ جسے اسرائیل نے سال 2005میں 38 سال کے قبضے کے بعد خالی کیا تھا۔


آپریشن کتنا عرصہ جاری رہے گا؟

اسرائیلی میڈیا نے ایک اسرائیلی کمانڈر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ آپریشن جنوری کے آخر تک جاری رہے گا۔ آپریشن کے تیسرے حصے میں اسرائیلی فوج غزہ کے شہری علاقوں میں داخل ہو گی۔ اسرائیل میں 10فروری کو قومی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے اس فوجی آپریشن کو عوامی تائید حاصل ہے۔ لیکن اگر اسرائیل حملوں میں مزید تیزی آتی ہے تو اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی دباؤ مزید بڑھنے کی امید ہے۔ اسرائیل کے لیے یہ ایک سوالیہ نشان ہے کہ کیا امریکہ میں 20 جنوری کو نئی انتظامیہ کے آنے سے امریکہ۔ اسرائیل پالیسی میں کوئی واضح تبدیلی آئے گی؟

غزہ میں زندگی کیسی ہے؟

Krieg in Gaza

راکٹ حملوں میں کمی کے بعد جنوبی اسرائیل میں چند اسکول دوبارہ کھول دئیے گئے ہیںجس سے دکھائی دیتا ہے کہ اسرائیلی جنگی آپریشن حماس کو کمزور کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو ا ہے۔

وہاں اشیائے خوردونوش تو ہیں لیکن وہ ناکافی ہیں اور زیادہ تر شہر میں بجلی نہیں ہے۔ اسرائیل ہر دوپہر تین گھنٹوں کے لیے بمباری روکتا ہے تاکہ فلسطینی عام شہری اشیائے ضرورت خرید سکیں اور ہلاک ہونے والوں کی تدفین کر سکیں۔ اقوام متحدہ کی ریلیف اور ورکس ایجنسی نے غزہ کے شہریوں کو خوراک اور دوسری امدادی سہولیات کی ترسیل ہفتے کو بحال کر دی ہے۔

جنوبی اسرائیل میں حالات کیسے ہیں؟

اگرچہ یہاں ہلاکتوں کی تعداد اتنی نہیں جتنی کہ غزہ پٹی میں فلسطینیوں کی ہے مگر ہزاروں شہریوں کی زندگی روز کے راکٹ حملوں سے مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ ہفتے کے روز حماس کی جانب سے راکٹ حملوں میں کمی کے بعد چند اسکول دوبارہ کھول دئیے گئے ہیںجس سے دکھائی دیتا ہے کہ اسرائیلی جنگی آپریشن حماس کو کمزور کرنے میں کسی حد تک کامیاب ہو ا ہے۔