1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ: ترک امدادی کارکنوں کی واپسی، پرتپاک خیرمقدم

غزہ پٹی کے لئے امداد لے کر جانے والے متاثرہ بحری بیڑے کے سینکڑوں کارکنوں کا جمعرات کو ترکی واپسی پر شاندار استقبال کیا گیا ہے۔

default

دوسری جانب اسرائیل نے عالمی برادری کے ان مطالبوں کو رد کر دیا ہے کہ اس امدادی بیڑے میں شامل بحری جہازوں پر کئے گئے ہلاکت خیز اسرائیلی کمانڈو ایکشن کی تحقیقات کرائی جائیں۔

بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب استنبول کے ہوائی اڈے پر اترنے والے سینکڑوں ترک امدادی کارکنوں کے استقبال کے لئے ان کے ہزاروں ہم وطن جمع تھے۔ استنبول کا کمال اتا ترک ہوائی اڈہ اسرائیل مخالف نعروں سے گونج رہا تھا۔

دریں اثنا غزہ پٹی کے فلسطینی عوام کے لئے سینکڑوں ٹن امدادی سامان لے کر جانے والے اس بحری بیڑے کے 466 ترک منتظمین کے ساتھ ساتھ ان جہازوں پر اسرائیلی دستوں کی کارروائی میں مارے گئے نو افراد کی لاشیں بھی ترکی پہنچ گئیں۔ غزہ پٹی کے علاقے تک پہنچنے کے خواہش مند لیکن سمندری سفر کے دوران خونریز کارروائی کے بعد اسرائیل سے ڈی پورٹ کئے جانے والے یہ امدادی کارکن فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے طیارے سے باہر نکلے۔ ایک اور طیارہ اکتیس یونانی، تین فرانسیسی اور ایک امریکی رضا کار کو لے کر یونان پرواز گر گیا۔

Türkei Demonstration gegen israelische Militäraktion in Gaza Flash-Galerie

اتا ترک ایئرپورٹ پر ترک اور فلسطینی پرچم لہراتے شہری

ترکی میں قائم ’انسانی بنیادوں پر امداد کی فاؤنڈیشن‘ نامی ایک اسلامی فلاحی تنظیم کے سربراہ بلند یلدرم ، جو اس امدادی قافلے کے روح رواں بھی تھے، نے الزام لگایا کیا کہ اسرائیلی کمانڈوز ان بحری جہازوں پر بلاتفریق فائرنگ کی جو متعدد کارکنوں کی موت کا سبب بنی۔

بلند یلدرم نے کہا: ’’ان کے سامنے جو بھی آرہا تھا، وہ اس پر گولیاں چلا رہے تھے۔ کچھ ساتھیوں کو تو انہوں نے کھلے سمندر میں پھینک دیا۔ ایک صحافی جو اس کمانڈو آپریشن کی تصاویر بنا رہا تھا، اسے ایک میٹر سے بھی کم فاصلے سے سر میں گولی مار دی گئی۔ رضا کاروں نے اپنے تحفظ کے لئے اسرائیلی فوجیوں پر آہنی سلاخوں سے حملہ کیا۔ اس دوران کچھ اسرائیلی فوجیوں پر قابو پاکر ان کے ہتھیار بھی چھین لئے گئے، تاہم امدادی کارکنوں نے جوابی طور پر ان ہتھیاروں کا استعمال نہیں کیا۔‘‘

بلند یلدرم نے بتایا کہ کچھ رضا کار اب تک لاپتہ ہیں۔ ’انسانی بنیادوں پر امداد کی فاؤنڈیشن‘ نامی ترک فلاحی تنظیم کے سربراہ کے بقول غزہ پٹی کے متاثرین کے لئے امداد کی فراہمی کا سلسلہ نہیں رکے گا۔

ادھر اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر 42 ممالک کے 682 افراد چھ کشتیوں پر مشتمل بحری بیڑے پر سوار غزہ جانا چاہتے تھے۔ ایک حکومتی بیان کے مطابق آئرلینڈ، آسٹریلیا اور اٹلی سے تعلق رکھنے والے بعض زخمی رضا کار اب بھی اسرائیل ہی میں ہیں۔

Abdullah Gül auf dem Weg nach Armenien

ترک صدر عبد اللہ گل نے واضح کردیا ہے کہ اب ترک اسرائیلی تعلقات پہلے جیسے نہیں رہیں گے

اسرائیلی حکومت نے اس واقعے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات سے متعلق بین الاقوامی برادری کے مطالبات رد کر دئے ہیں۔ خاص طور پر اقوام متحدہ، یورپی یونین اور ترکی ان واقعات کی شفاف چھان بین کے مطالبے کر رہے ہیں۔ دیگر ممالک کے مقابلے میں اسرائیلی کارروائی پر اپنے محتاط ردعمل کا اظہار کرنے والے ملک اور اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی امریکہ نے ان واقعات کی ایسی بین الاقوامی تحقیقات کی حمایت کی ہے،جن میں اسرائیل بھی شامل ہو۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ ان امدادی بحری جہازوں پر سوار ’مشتعل افراد‘ نے اس کے فوجی کمانڈوز کو دبوچ کر ان سے ہتھیار چھینے اور ان پر فائرنگ بھی کی گئی تھی۔ اسرائیلی حکومت نے اس کمانڈو ایکشن کو ’ذاتی دفاع‘ سے تعبیر کیا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM