1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ اور مصرکی سرحد پر جھڑپیں اور مفاہمت

شدید جھڑپوں کے بعد مصری حکام اورViva Palestina نامی رضا کاروں کے گروپ کے مابین امدادی سامان غزہ لے جانے کے معاملے پر مفاہمت ہوگئی ہے۔ غزہ اور مصر کے سرحدی راستے پر جھڑپوں میں ایک مصری فوجی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔

default

مصر نے خوراک اور دیگر امدادی سامان سے لدے ٹرکوں کو رفاہ کی چیک پوسٹ کے راستے غزہ میں داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ اس سے قبل بدھ کی رات مصری علاقے العریش میں Viva Palestina Group کے نام سے فلسطینیوں کے غیر ملکی حامیوں کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں، جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہوئے۔ محتاط اندازے کے مطابق پانچ سو پچاس امدادی کارکنان ، غزہ کے شہریوں کے لئے امدادی سامان کے ٹرکوں کے ہمراہ غزہ میں داخل ہونا چاہتے تھے۔ مصری حکام چاہتے تھے کہ امدادی سامان اسرائیل کی زیر انتظام سرحدی چیک پوسٹ کے راستے غزہ میں داخل ہو، لیکن امدادی کارکنان مصر کی زیر انتظام رفاہ چیک پوسٹ کا راستہ استعمال کرنا چاہتے تھے۔

Tunnelbauer in Gaza

غزہ کو مصر سے ملانے والی سرنگ میں ایک فلسطینی نماز پڑھتے ہوے

فریقین کے مابین تصفیہ تو طے پا گیا ہے تاہم سیکیورٹی حکام نے وقتی طور رضاکاروں کی نجی گاڑیوں کو غزہ جانےسے روک دیا ہے۔ گزشہ شب مصری حکام اور رضا کاروں کے مابین معاملات طے کرنے میں ترکی نے مصالحتی کوششوں میں اہم کردار ادا کیا۔ ترکی نے ضمانت فراہم کی کہ آئندہ ماہ رضا کاروں کی نجی گاڑیوں کو بھی اسرائیل کی زیر انتظام سرحدی چیک پوسٹ کے راستے غزہ داخلے میں تعاون فراہم کیا جائے گا۔ اس امدادی قافلے کی سربراہی برطانیہ میں بائیں بازو کے سیاستدان George Galloway کررہے ہیں۔

سال دو ہزار سات میں جب سے حماس نے غزہ پر قبضہ کیا ہے، تب سے مصر اور اسرائیل نے غزہ پٹی کا محاصرہ کر رکھا ہے۔ عسکری تنظیم حماس پر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ زیر زمین سرنگوں کے راستے مصر سے اشیاء ضرورت کے بہانے اسلحہ اسمگل کرنے میں ملوث ہے۔

گزشتہ رات ہی مصر اور غزہ کے درمیان سرحدی علاقے رفاہ میں فلسطینی مظاہرین اور مصری سیکیورٹی حکام کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔ اطراف سے فائرنگ کے نتیجے میں ایک مصری پولیس اہلکار کی موت واقع ہوئی جبکہ دس فلسطینی زخمی ہو گئے۔ مصر کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ان جھڑپوں میں 17 مصری فوجی بھی زخمی ہوئے اور سات غیر ملکی امدادی کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا۔

Palästinenser Gebiete Gaza Ismail Hanija

حماس حکومت کے وزیراعظم اسماعیل ہنیہ

مصر کی طرف سے غزہ سرحدی راستے پر اسٹیل کی دیوار کی تعمیر کے خلاف یہ مظاہرے کئے گئے۔ اس اسٹیل کی دیوار کی تعمیر ایک ماہ قبل شروع کی گئی تھی جس کا مقصد ہے کہ سرحدی راستے سے حماس جنگجؤں کے لئے اسلحے کی اسمگلنگ روکی جائے۔ تاہم حماس رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اس دیوار کی تعمیر کے نتیجے میں امدادی سامان کی ترسیل میں روکاٹ پیدا ہو جائے گی۔

جھڑہیں شروع ہونے سے قبل غزہ کے سرحدی علاقے پر جمع ہوئے سینکڑوں مظاہرین سے حماس کے رہنما مشیر المصری نے اپنے خطاب میں قاہرہ حکومت سے غزہ کا تین سال سے جاری محاصرہ ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM