1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غزہ امدادی قافلے پر حملہ، اقوام متحدہ کی کڑی تنقید

غزہ امدادی قافلے کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائی پر گفت شنید کے لئے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس پیر کے روز منعقد ہوا۔ اجلاس میں زیادہ تر اراکین نے واقعے کی مکمل تفتیش پر زور دیا ہے۔

default

اقوام متحدہ کے مستقل اور غیر مستقل اراکین پر مشتمل پندرہ رکنی اجلاس میں اسرائیلی بحریہ اور سریع الحرکت دستوں کی کارروائی کی زیادہ تر ممالک نے مذمت کی ہے۔ پیر کے روز اسرائیلی فورسز نے غزہ کے لئے امدادی سامان اور ادوایات لے جانے والے ان بحری جہازوں پر حملہ کیا تھا، جو غزہ کے خلاف اسرائیلی ناکہ بندی کے باوجود یہ امدادی سامان غزہ پہنچانا چاہتے تھے۔ اس سے قبل اسرائیل نے خبردار کیا تھا کہ غزہ کے لئے کسی ایسی امداد کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

ان امدادی بحری جہازوں پر تقریبا تقریبا 700 افراد سوار تھے۔ مصری سفیر کے مطابق اسرائیل کے اس کمانڈو ایکشن کے نتیجے میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہوئے جبکہ اسرائیل نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد نو بتائی ہے۔

Israelische Flotte will Gaza-Hilfe stoppen

اسرائیل نے ان امدادی کارکنوں کو غزہ کا رخ کرنے سے خبردار کیا تھا

پیر کے روز اسرائیل کمانڈوز نے غزہ کے لئے امدادی سامان لے کر جانے والے بحری بیڑے کی اس کشتی پر حملہ کیا تھا، جس کا تعلق ترکی سے تھا۔ اس واقعے کی دنیا بھر میں مذمت کی جا رہی ہے جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا تھا۔ سفارت کاروں کے مطابق مذاکرات کار اس حوالے سے اقوام متحدہ کی مشترکہ قرارداد کی تیاری میں مصروف ہیں۔

اقوام متحدہ کے اس ہنگامی اجلاس میں متعدد رکن ممالک نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل غزہ کی ناکہ بندی فوری طور پر ختم کر دے۔

اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر ترک شہری تھے۔ ترک وزیرخارجہ احمت داوُتوگولو نے سیکیورٹی کونسل میں اپنے بیان میں واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا : ’’اب افراد کو ایک ریاست نے قتل کیا ہے۔‘‘

اجلاس میں امریکہ کی جانب سے کہا گیا کہ امریکہ اس واقعے میں ہلاکتوں کی مذمت کرتا ہے اور اس حوالے سے اسرائیل صاف اور شفاف تفتیش کرے۔ تاہم امریکی موقف میں غزہ ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے انسانی حقوق کے کارکنوں کی کوشش کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

’’سمندر کے راستے غزہ تک براہ راست امداد کی ترسیل نہ تو ذمہ دارانہ عمل تھا نہ ہی ضروری تھا اور نہ ہی موجودہ حالات میں کوئی درست فیصلہ تھا۔‘‘

اجلاس میں اسرائیلی سفیر نے کہا کہ یہ قافلہ امدادی کاوش کے علاوہ سب کچھ تھا۔ اس سے قبل یروشلم نے الزام عائد کیا تھا کہ اسرائیلی بحریہ نے اس بحری قافلے سے رکنے اور امدادی سامان اسرائیل کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اسرائیل کا موقف تھا کہ وہ یہ تمام امدادی چیکنگ کے بعد غزہ تک بھیج دے گا تاہم ان امدادی کارکنوں نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔ اسرائیلی سفیر کے مطابق بحریہ کے اہلکاروں پر چاقوؤں، لاٹھیوں اور آتشیں اسلحے سے حملہ کیا گیا اور جوابی کارروائی میں یہ ہلاکتیں ہوئیں۔ اسرائیلی سفیر کے مطابق ان جہازوں کی ترسیل کرنے والی افراد میں ایک کا تعلق ایک ’دہشت گرد تنظیم‘ سے بھی تھا۔ اسرائیلی سفیر نے کہا کہ یروشلم نے یہ قدم ’احتیاطی تدابیر‘ کے طور پر اٹھایا۔

2007ء میں غزہ پر عسکریت پسند تنظیم حماس کے کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے۔ سن 2008ء میں غزہ کے علاقے سے اسرائیل پر راکٹ حملوں کے جواب میں اسرائیل نے غزہ پر حملہ بھی کیا تھا، جس میں ایک ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے تھے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM