1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

غریب ممالک کے لیے صاف توانائی، اربوں ڈالر کا نیا منصوبہ

موسمیاتی تبدیلیوں کے موضوع پر پیر تیس نومبر سے فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں شروع ہونے والی اقوام متحدہ کی کانفرنس کے دوران مائیکروسوفٹ کے شریک بانی بل گیٹس توانائی کے اربوں ڈالر کے ایک نئے منصوبے کا آغاز کرنے والے ہیں۔

Deutschland Gelsenkirchen Kohlekraftwerk Symbolbild Klimawandel CO2

پیرس میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام اپنی نوعیت کی اکیس ویں کانفرنس کا آغاز تیس نومبر سے ہو رہا ہے

فرانسیسی حکومت کے مطابق بل گیٹس صاف توانائی کے حوالے سے اربوں ڈالر کے اس منصوبے کی تفصیلات پیرس کانفرنس میں پیش کریں گے، جس میں دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت و حکومت کی شرکت متوقع ہے۔

DW.COM

نیوز ایجنسی روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق گیٹس کو اپنے ’کلین ٹَیک انیشیئیٹیو‘ کے سلسلے میں ترقی کی دہلیز پر کھڑے اور ترقی یافتہ ملکوں کے ایک گروپ کی بھی تائید و حمایت حاصل ہے۔ اس پروگرام کے تحت مختلف ممالک یہ عہد کریں گے کہ وہ 2020ء تک صاف توانائی کے حوالے سے تحقیق اور صاف توانائی کی ترویج و ترقی کے سلسلے میں اپنی کوششیں دگنی کر دیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی شعبہ بھی اس شعبے میں اپنی سرمایہ کاری بڑی حد تک بڑھا دے گا۔

بتایا گیا ہے کہ صاف توانائی کی ٹیکنالوجی تک رسائی موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے طے پانے والے عالمی سمجھوتے کے سلسلے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ پیرس میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام اپنی نوعیت کی اکیس ویں کانفرنس کا آغاز تیس نومبر سے ہو رہا ہے اور یہ تقریباً دو ہفتوں تک جاری رہنے کے بعد گیارہ دسمبر کو اپنے اختتام کو پہنچے گی۔ اس کانفرنس کے دوران 190 سے زیادہ ممالک کے دریان موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مناسب اقدامات کے موضوع پر ایک نئے عالمگیر معاہدے کے لیے مذاکرات عمل میں لائے جائیں گے۔

پیرس کانفرنس کے قریبی ذرائع کے حوالے سے روئٹرز کا کہنا ہے کہ فرانس، ریاست ہائے متحدہ امریکا، بھارت، جنوبی کوریا، انڈونیشیا، سعودی عرب، آسٹریلیا، کینیڈا اور ناروے نے بل گیٹس کے تجویز کردہ منصوبے میں تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ توقع ظاہر کی گئی ہے کہ کانفرنس کے دوران گیٹس کی طرف سے اس پروگرام کے باقاعدہ اعلان کے بعد مزید ممالک بھی اس پروگرام میں شامل ہو جائیں گے۔

بل گیٹس اپنے منصوبے کا اعلان پیرس کانفرنس کے افتتاحی روز یعنی پیر کو کریں گے۔ اس موقع پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی، امریکی صدر باراک اوباما اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولانڈ بھی اُن کے ہمراہ ہوں گے۔ بھارت کے لیے صاف توانائی کی ٹیکنالوجی تک رسائی اس لیے بھی بھی بے حد اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ ملک آج کل دنیا بھر میں فضا میں سب سے زیادہ ضرر رساں گیسیں خارج کرنے کے اعتبار سے تیسرے نمبر پر جا رہا ہے۔

USA Microsoft Gründer Bill Gates

بل گیٹس صاف توانائی کے حوالے سے اربوں ڈالر کے اس منصوبے کی تفصیلات پیرس کانفرنس میں پیش کریں گے،

بھارت کا موقف ہے کہ توانائی کے متبادل ذرائع یا سرے سے ضرر رساں گیسیں خارج نہ کرنے والی ٹیکنالوجیز تک رسائی کے سلسلے میں ترقی یافتہ ممالک کو غریب ملکوں کی مدد کرنی چاہیے۔

واضح رہے کہ بل گیٹس موسمیاتی تبدیلیوں کے آگے بند باندھنے کی کوششوں کے سلسلے میں اگلے پانچ سال کے دوران اپنی ذاتی دولت میں سے دو ارب ڈالر مختص کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ گیٹس چاہتے ہیں کہ نجی شعبے کو اس طرح کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے لیے ضروری ہے کہ حکومتیں بھی صاف توانائی پر تحقیق اور اس کی ترویج و ترقی کے لیے رقوم فراہم کرنے کا عمل تیز تر کر دیں۔