1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غریب ملک میں اربوں روپے کے قرضے معاف

پاکستان میں اربوں روپے کے قرضے معاف کروانے والوں میں اعلیٰ فوجی و سول افسران کے ساتھ ساتھ مشہور سیاست دان بھی شامل ہیں۔

default

پاکستان کے ذرائع ابلاغ میں ان دنوں اُس فہرست کے مندرجات کا زبردست چرچا ہے جس میں کروڑوں اربوں روپے کے قرضے لینے والوں اور پھر اپنی صنعتوں کو بیمار یا خود کو دیوالیہ قرار دے کر وہ قرضے معاف کرنے والوں کے نام تمام تفصیلات کے ساتھ درج کئے گئے ہیں۔

پاکستان کے بڑے سیاسی گھرانوں اور کاروباری اداروں کے بینک قرضوں کی معافی کی کہانی تقریباً تین دہائیوں پر محیط ہے۔ خاص طور پر جنرل ضیاء الحق کے دور اقتدار سے سیاسی مصلحتوں کے تحت مخصوص افراد ، گھرانوں یا کاروباری اداروں کے قرضوں کی معافی کا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔

Muhammad Zia ul-Haq

سابق فوجی صدر جنرل ضیاء الحق

جنرل پرویز مشرف کے دور اقتدار میں بھی سیاسی نوازشوں کا یہ سلسلہ جاری رہا اور اس کے تحت 1999ءسے لے کر 2008ءکے درمیانی عرصے میں 125 ارب روپے کے کمرشل قرضے معاف کئے گئے جن میں سیاستدان، جرنیل، صنعتکار ، صحافی اور میڈیا گروپ بھی شامل تھے۔

وزارت خزانہ کے سابق مشیر ڈاکٹر اشفاق حسن خان کے مطابق معاف کئے گئے قرضوں کی بڑی تعداد کا تعلق 1980ءاور 1990ء کی دہائی سے تھا اور ہزاروں کیس عدالتوں میں زیر سماعت ہونے کے باعث قرضوں کا سود اور اصل زر بڑھتا گیا جس کے باعث بینکوں کی نجکاری کے دوران بھی مسائل پیش آئے، کئی قرضے ناقابل وصولی ہوئے اور سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ایک خصوصی حکمنامے کے ذریعے قومی بینکوں کو دس سال سے پرانے قرضے معاف کرنے یا ان کا تصفیہ جلد از جلد کرنے کی ہدایت کی۔

Pakistan Armut

پاکستان میں انتہائی غربت کی سطح کے نیچے رہنے والوں کی ایک بڑی تعداد رہتی ہے جن کے لئے ایک وقت کی روٹی کا حصول کسی بڑے امتحان سے کم نہیں۔

اسی تناظر میں، ایک سینئر بینکار طلحہ سعید کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص شرح تک قرضوں کی معافی معمول کی بات ہے اور اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ انکے بقول:”عام کاروباری قرضوں میں عموماً دو سے تین فیصد تک رعایت ہوتی ہے کیونکہ ہو سکتاہے کہ ملک میں اقتصادی بحران کے باعث آپ کا کاروبار بیٹھ جائے اور آپ اپنے قرضے واپس نہ کر سکیں تو اس صورت میں بینک کو قرضے معاف کرنے پڑتے ہیں۔ کچھ قرضے سیاسی مصالحت کے باعث لئے جاتے ہیں اور بعد میں واپسی ممکن نہیں ہوتی تو یہ عام ڈیفالٹ ہے۔

دوسری طرف تاثر یہی ہے کہ قرضوں اور جرائم کی معافی سے عام پاکستانیوں سے زیادہ حکمران طبقہ مستفید ہوتا ہے اور یہ کہ اربوں روپے کے قرضے سیاسی مصلحت اور اثر و نفوذ کے تحت جاری ہوتے ہیں اور اسی انداز میں معاف بھی ہو جاتے ہیں

Pakistan neues Parlament bei seiner ersten Tagung in Islamabad

مسلم لیگ ق کی قیادت کے نام بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

اور غالباًاسی لئے ذرائع ابلاغ میں ان دنوں قرضے معاف کرانے والے یا قومی مصالحتی آرڈیننس یعنی NRO سے فائدہ اٹھانے والے وزراءاور حکام کی خبریں غیر معمولی طور پر نمایاں ہیں۔

حالیہ رپورٹوں میں سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف دور میں 60 ارب روپے کے قرضے معاف کئے جانے کا تزکرہ ہے۔ مشرف دور میں مبینہ ملی بھگت سے بھاری رقوم کے قرض معاف کروانے والوں کی فہرست میں ق لیگ کی اعلیٰ قیادت سمیت مختلف عہدوں کے فوجی افسران کے نام بھی شامل ہیں۔

رپورٹ . امتیاز گل

ادارت . امجد علی

DW.COM