1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غریب ترین ممالک غریب تر ہوتے جا رہے ہیں

اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر نیویارک میں پیر 18 ستمبر سے دُنیا بھر سے گئے ہوئے اعلیٰ سطحی نمائندے غریب ترین ممالک کے مستقبل پر تبادلہء خیال کر رہے ہیں۔ اِس میں اِس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ غریب ترین ممالک کی ترقی کےلئے سن 2001ء میں ترتیب دئے جانےوالے ایکشن پروگرام کی روشنی میں کہاں تک پیش رفت ہو سکی ہے۔ Helle Jeppesen کا لکھا جائزہ

default

یہ مئی سن 2001ء کی بات ہے کہ اقوامِ متحدہ نے غریب ترین ممالک کی مدد کےلئے ایک ایکشن پروگرام کی منظوری دی، جسے برسلز اعلامیے کا نام دیا گیا۔ اِس میں طے کیا گیا کہ دو ہزار ایک سے لے کر دو ہزار دَس تک غریب ترین ملکوں کی حالت بہتر بنانے کےلئے کیا کیا اقدامات کئے جائیں گے۔

اِس بار نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی اکسٹھ وِیں جنرل اسمبلی کے موقع پر آج پیرسے دُنیا بھر کے سرکردہ سفارتی نمائندے اِس امر کا جائزہ لے رہے ہیں کہ دَس سال دورانیے کے اس ایکشن پروگرام کے سلسلے میں پانچ سال یعنی آدھا وقت گذر جانے تک کیا کیا پیش رفت ہوئی ہے۔

اُدھراُن اہداف کو بھی چھ سال ہونے کو آئے ہیں، جن کا تعین نئے ہزار سالہ عہد کے آغاز پر کیا گیا تھا، جو برسلز اعلامیے سے بہت قریبی حد تک جڑے ہوئے ہیں اور جن کی گذشتہ سال ایک مرتبہ پھر پُرزور تصدیق کی گئی تھی۔ ایک ہدف مثلاً یہ تھا کہ سن 2015ء تک دُنیا بھر میں غربت میں نصف کمی کر دی جائےگی۔

آج اقوامِ متحدہ کے معیشت اور ترقی کے ادارے UNCTAD کی طرف سے پیش کردہ رپورٹ میں اب تک کے حالات کا کافی مایوس کن میزانیہ پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کےمطابق غریب ترین ممالک کو نہ تو عالمگیریت سے کوئی فائدہ پہنچا ہے اور نہ ہی عالمگیر اقتصادی ترقی کے ثمرات اُن تک پہنچے ہیں۔

اِس رپورٹ کے مرتبین میں سے ایک مِشاعیل ہَیرمان کے مطابق مسئلہ یہ نہیں ہے کہ اِن ملکوں کو اقتصادی ترقی سے سرے سے کوئی فائدہ پہنچتا ہی نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ فائدہ دیرپا نہیں ہوتا اور اقتصادی ترقی کے فوراً بعد اُن کی معیشت پھر سے سنگین بحرانوں سے دوچار ہو جاتی ہے۔

غریب ترین ممالک کی فہرست میں ایشیا کے دَس، بحرالکاہل کے پانچ مجمع الجزائر اور براعظم افریقہ کے 34 ممالک شامل ہیں۔ قرضوں میں رعایتوں یا معافی اور امیر ملکوں کی طرف سے زیادہ ترقیاتی امداد کے باوجود غریب ملکوں میں غربت بڑھتی جا رہی ہے۔

اِس فہرست میں شامل دو تہائی ملکوں کی آج کل کی زرعی پیداوار بیس سال پہلے کے مقابلے میں کم ہے۔ اِس کی ایک وجہ مثلاً یہ بھی ہے کہ یورپی یونین ہر سال اپنے رکن ممالک کے زرعی شعبے کو ترقی دینے کے لئے 55 ارب یورو خرچ کرتی ہے۔ گویا یورپ میں اقتصادی ترقی اور تعاون کی تنظیم OECD کے رکن ممالک اپنے ہاں زرعی شعبے کے لئے سرکاری اعانتوں پر ترقیاتی امداد کے مقابلے میں دَس گنا زیادہ رقم خرچ کرتے ہیں۔

مِشاعیل ہَیرمان کہتے ہیں کہ امیر ممالک کی اپنے زرعی شعبوں کے لئے سرکاری اعانتیں ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو مختلف طریقے سے نقصان پہنچاتی ہیں،مثلاً افریقی ملک سینیگال، جو کبھی ٹماٹر اور ٹماٹر کا پیسٹ یورپی یونین میں بھی فروخت کیا کرتا تھا، آج کل یہی چیزیں یورپی یونین سے درآمد کر رہا ہے اور ظاہر ہے، اِس سے سینیگال کی ٹماٹر کی مقامی صنعت کو نقصان پہنچا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ عالمی تجارتی تنظیم WTO کے مذاکرات میں بھی سرکاری اعانتوں کے خاتمے اور درآمدی و برآمدی محصولات میں کمی کے موضوعات بہت اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اصولی طور پر یہ طے کیا گیا ہے کہ سن 2008ء سے 50 غریب ترین ممالک کی مصنوعات پر نہ تو محصولات عایدکئے جائیں گے اور نہ ہی کوئی درآمدی حد مقرر کی جائے گی۔

اگرچہ آج اور کل نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے 193رکن ممالک ایک بار پھر غریب ترین ملکوں کے حوالے سے اپنے اہداف کا پر زور اعادہ کریں گے لیکن جنرل اسمبلی کا ایجنڈا اتنا وسیع ہے کہ غریب ترین ملکوں کے مسائل ایک بار پھرغالباً محض ضمنی موضوع بن کر رہ جائیں گے۔