1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

غربت کے خاتمے کے لیے تشدد کا خاتمہ ضروری، عالمی بینک

ورلڈ بینک نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ صرف اقتصادی ترقی سے ہی غربت اور بے روزگاری کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے تنازعات اور پر تشدد واقعات پر کنٹرول کرنا ناگزیر ہے۔

default

اتوار کی رات کو جاری کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر رونما ہونے والے پر تشدد واقعات اور تنازعات کی وجہ سے 1.5 بلین افراد غربت کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اس رپورٹ میں عالمی رہنماؤں سے پرزور مطالبہ کیا گیا ہے کہ تنازعات اور پر تشدد واقعات کے خاتمے کے لیے فوری طور پر ایک مؤثر حکمت عملی ترتیب دی جائے۔

رپورٹ کے مطابق ایسے ممالک جہاں سیاسی جرائم کی وجہ سے تشدد ہوتا ہے، ان ممالک میں دیگر ممالک کی نسبت غربت کی شرح بیس فیصد زیادہ ہے۔ ورلڈ بینک کے صدر رابرٹ زولک نے کہا ہے کہ اگر تشدد میں کمی پیدا ہو گی تو حکومتیں اپنے شہریوں کو سلامتی، انصاف اور ملازمتوں کے حوالے سے تحفظ فراہم کرنے میں کامیاب ہو سکیں گی اور وہ ترقی کی راہوں پر گامزن ہوتے ہوئے غربت کو ختم کرنے کی طرف اہم پیش رفت کر سکیں گے۔

USA Weltbank Finanzkrise Robert Zoellick

ورلڈ بینک کے صدر رابرٹ زولک

ورلڈ ڈویلپمنٹ رپورٹ برائے سال 2011 میں اس بات کا بغور جائزہ لیا گیا ہے کہ تنازعات اور پر تشدد واقعات کس طرح ملکی ترقی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس رپورٹ میں صومالی قزاقوں سے لے کر افغانستان میں تشدد اور امریکہ میں منشیات کی اسمگلنگ کا بغور مطالعہ کیا گیا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق ترقی پذیر ممالک میں رونما ہونے والے تشدد کی وجہ سے دنیا کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

عالمی بینک کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تنازعات، تشدد اور انسانی حقوق کی پامالیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں 42 ملین افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اس رپورٹ میں مذکورہ مسائل سے نمٹنے کے لیے پانچ نکاتی ' ایکشن روڈ میپ' بھی تجویز کیا گیا ہے۔ عالمی بینک نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ عوام کی سکیورٹی کو ممکن بنانے، انہیں روزگار کے مواقع فراہم کرنے، فراہمی انصاف اورملکی اداروں میں اصلاحات نافذ کرنے کے لیے سرمایہ کاری کریں۔ رپورٹ کے مطابق تنازعات اور سکیورٹی کے مسائل براہ راست ترقی سے جڑے ہوئے ہیں۔ اس رپورٹ کی تیاری میں اٹھارہ ماہ کا وقت لگا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس