غداری کا مقدمہ، صرف پرویز مشرف ملزم ہیں، سپریم کورٹ | حالات حاضرہ | DW | 26.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

غداری کا مقدمہ، صرف پرویز مشرف ملزم ہیں، سپریم کورٹ

پاکستانی سپریم کورٹ نے سابق فوجی آمر پرویز مشرف کو سنگین غداری کے مقدمے میں تنہا ملزم قرار دے دیا ہے۔ دوسری جانب پرویز مشرف کے وکلاء نے اس فیصلے پر نظر ثانی کے لئے اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں جمعے کے روز سابق پی سی او چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو سنگین غداری کے مقدمے میں شریک ملزم بنائے جانے کے خلاف اپیل پر فیصلہ سنایا۔

عدالت نے آئین شکنی کے مقدمے میں پرویز مشرف کے ساتھ عبدالحمید ڈوگر، سابق وزیر اعظم شوکت عزیز اور سابق وزیر قانون زاہد حامد کو شریک ملزم قرار دیے جانے کے خصوصی عدالت اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کہ آئین شکنی کے مقدمے میں کسی شخص کو شامل کرنے کا اختیار وفاق کو ہے عدالت کو نہیں۔ وفاق نے سنگین غداری کے مقدمے میں پرویز مشرف کو تنہا ملزم قرار دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ سنگین غداری کے مقدمے میں تحقیقات مکمل ہونے تک آئین شکنی کے مقدمے کی عدالتی کارروائی کو نہیں روکا جاسکتا۔ سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت کو اس مقدمے کی سماعت جلد مکمل کرنے کا حکم بھی دیا۔

قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پرویز مشرف کو اب تنہا ہی اس مقدمے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس سے قبل سندھ ہائیکورٹ کے سابق جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کی درخواست پر سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق وزیر قانون زاہد حامد اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو شریک ملزم قرار دینے کا حکم دیتے ہوئے ان کو شامل تفتیشں کر نے کا حکم دیا تھا، جس پر ان شریک ملزمان نے خصوصی عدالت کے اس فیصلے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ تاہم ہائیکورٹ نے خصوصی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔ اس کے بعد عبدالحمید ڈوگر نے ان فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکٹایا تھا۔

Parkistan Politik Musharraf

پرویز مشرف کے وکلاء نے اپنے موکل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلوانے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے

سپریم کورٹ بار ایسویسی ایشن کے سابق صدر کامران مرتضی کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے ذ‌ریعے وفاق کا مؤقف تسلیم کیا گیا ہے۔ ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’اب عدالت نے گیند ایک مرتبہ پھر حکومت کی کورٹ میں ڈال دی ہے، دیکھتے ہیں کہ حکومت خصوصی عدالت کی تشکیل نو کب مکمل کرتی ہے اور ایف آئی اے اپنی تحقیقات میں کیا چیز سامنے لاتی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ حکومت کے لئے اب بھی اس مقدمے کی تفتیش کو مکمل کرنا ایک بڑا چیلنج ہو گا کیونکہ تفتیش کے نقائص کو کسی بھی لمحے چیلنج کیا جاسکتا ہے۔

خیال رہے کہ خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے سے دسمبر میں ترقی پا کر سپریم کورٹ کے جج مقرر ہو گئے تھے۔ حکومت ابھی تک نئے سربراہ کا تقرر نہیں کر سکی۔ البتہ اس عہدے کے لئے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مظہر عالم کاکا خیل کا نام منظوری کے لئے صدر مملکت کو بھجوایا گیا ہے۔

دوسری جانب ملزم پرویز مشرف کے وکلاء نے اپنے موکل کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلوانے کے لیے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سابق فوجی صدر کا علاج کے لیے بیرون ملک جانا ناگزیر ہے اس لیے اُن کا نام ای سی ایل سے نکالا جائے۔

پرویز مشرف کی ٹیم کے ایک وکیل فیصل چوہدری نے ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے کہا ، ’’سپریم کورٹ نے اپنے آج کے فیصلے میں شریک ملزمان سے تفتیش کے خصوصی عدالت یا اسلام آباد ہائیکورٹ کے فیصلے پر کوئی قدغن نہیں لگائی۔ ہم نے بھی شریک ملزمان کے نام نکالنے کے لئے عدالت میں رضامندی ظاہر کی تھی۔ اس سلسلے میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا انیس اکتوبر دو ہزار پندرہ کا وہ حکم انتہائی اہم ہے، جس میں حکومت کو تفتیش شفاف انداز میں آگے بڑھانے کا کہا گیا تھا۔‘‘

سپرم کورٹ کی طرف سے پرویز مشرف کو تنہا ملزم قرار دیے جانے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے فیصل چوہدری نے کہا، ’’اس معاملے میں عدالت نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا ہے اور ہمارے مؤکل کو شفاف ٹرائل دیے جانے کے آئینی حق پر قدغن لگائی گئی ہے، جس کے خلاف ہم نظر ثانی کی اپیل دائر کریں گے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی درخواست اس لئے نہیں دی کہ وہ ملک سے بھاگنا چاہتے ہیں یا مقدمات کا سامنا کرنے سے گھبرا رہے ہیں بلکہ پرویز مشرف کی صحت کافی دنوں سے خراب ہے اور کراچی میں ان کے معالجین نے انہیں بیرون ملک منتقل کرنے کا مشورہ دیا ہے۔