1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

غاروں میں رہنے والے انسانوں کی صحت کا راز بہتر غذا تھی

سائنسدان دراصل قدیم دور کے اُن انسانوں کی غذائی عادات کا پتا لگانے کی کوشش کر رہے ہیں جو ماہرین کے مطابق ڈھائی ملین سال سے لے کر 12 ہزار سال قبل تک کے غاروں میں رہا کرتے تھے۔

default

سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے غاروں میں رہنے والے انسانوں کی غذائی عادات کا پتا لگانے کے لئے ایک نئی ریسرچ شروع کی ہے۔ ماہرین اس تحقیق کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اب سے قریب 12 ہزار سال پہلے تک شکار کرکے گزر بسر کرنے والا انسان کس قسم کی اشیاء کھاتا تھا اور یہ کہ ان غذائی اشیاء کو دور جدید کے کھانوں میں شامل کر کے کس طرح زیادہ سے زیادہ توانائی سے بھرپور بنایا جا سکتا ہے۔ ۔

Flash Imperial College London

ایمپیریل کالج لندن میں طبی ریسرچ کا معیار بہت بلند ہے

طبی تحقیقی ٹیم

ریسرچرز کی اس ٹیم میں علمِ جینیات، علمِ بشریات، غذائی سائنس اور نباتات کے ماہرین شامل ہیں۔ یہ تحقیق غذائی اشیا سمیت دیگر لاتعداد مصنوعات تیار کرنے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی Unilever کی طرف سے شروع کرائی گئی ہے۔ اس تحقیقی ٹیم کے انچارج ڈاکٹر مارک بیری کے بقول، " ہماری کوشش ہے کہ موجودہ دور کے انسانوں کے لئے زیادہ سے زیادہ صحت افزا خوراک تیار کی جائے، جو غار میں زندگی بسر کرنے والوں کی غذا سے متاثر ہو۔"

اس تحقیق کے نتائج بتاتے ہیں کہ قدیم دور کے انسان سبزیاں، پھل، مختلف اقسام کے بادام، پودوں کی جڑیں اور گوشت کھایا کرتے تھے۔ تاہم ان کی غذا میں زرعی اجناس،آلو، روٹی اور دودھ بالکل شامل نہیں تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذراعتی دور کے آغاز یعنی تقریبا 10 ہزار سال سے انسانوں کی غذائی ثقافت ارتقائی مراحل سے گزری ہے اور لوگوں نےسستی قیمتوں پر دستیاب غذائی اشیاء کا استعمال شروع کیا ہے۔

Symbolbild Senioren Rentner Alte Menschen

بُڑھاپا از خود ایک بیماری

طویل عمر یا صحت مند زندگی بہتر

یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر مارک تھومس کا کہنا ہے، " قدیم دور کے انسانوں کی عمریں شاید جدید دور کے انسانوں سے کم ہوتی ہوں تاہم وہ بری یا مضر غذا کے استعمال سے نہیں مرتے تھے۔ غاروں میں رہنے والے انسانوں کی غذا میں کثیر النوع ہری اشیاء یا سبزیاں اورپودے شامل ہوتے تھے۔ موجودہ دور میں ہم کوشش کرتے ہیں کہ ہر روز کم از کم چار یا پانچ قسم کی سبزیاں اور پھل کھائیں جبکہ قدیم دور میں لوگ پودوں پر مشتمل 20 سے 25 قسم کی غذا کا استعمال روزانہ کیا کرتے تھے۔ "

ڈاکٹر مارک بیری کے بقول، " حقیقت اس عام تصور کے بر خلاف ہے کہ قدیم دور کے لوگ گوشت خور تھے۔ اُس وقت کے انسان محض ان سبزیوں یا پودوں پر گزارا کرتے تھے ، جو انہیں میسر تھے۔ اس کے علاوہ وہ بیجوں اورجڑی بوٹیوں سے مچھلی اور گوشت کو محفوظ اور دیر تک قابل استعمال بنانے کی کوشش کرتے تھے۔ ان لوگوں کی ایک اور مرغوب غذا وائلڈ بیریز یا مختلف طرح کے جنگلی بیر ہوا کرتے تھے۔ مطلوبہ غذائی توانائی کے حصول کے لئے وہ مچھلی کھایا کرتے تھے جب کہ دالوں کے ذریعے انہیں اضافی پروٹین حاصل ہو جاتی تھی۔"

ماہرین کا کہنا ہے کہ قدیم دور کے انسان دور حاضر کے لوگوں کی طرح اناج کو اپنی غذائی ضروریات پورا کرنے والی مرکزی چیز نہیں سمجھتے تھے بلکہ وہ لوگ جو غذا استعمال کرتے تھے اس میں موجودہ دور کے مقابلے میں کاربو ہائیڈریٹ اور فیٹ یعنی چربی کی مقدار کہیں کم ہوتی تھی اور سبزیوں سے انہیں زیادہ سے زیادہ وٹامنز حاصل ہوتے تھے۔ یونیورسٹی کالج لندن کے شعبہ ارتقائی جینیات کے پروفیسر مارک تھومس کا کہنا ہے کہ قدیم دور کے انسان جدید دور کے لوگوں سے کہیں زیادہ صحت بخش اشیا کھاتے تھے۔

Deutschland Lebensmittel Metzgerei Fleischtheke Flash-Galerie

قدیم دور سے زیادہ گوشت کا استعمال جدید ترقی یافتہ دور میں ہو رہا ہے

غاروں میں رہنے والے گوشت خور نہیں تھے

اس سے قبل اس بارے میں کی جانے والی ایک اور تحقیق کے نتائج سے پتا چلا تھا کہ غاروں میں رہنے والے اور شکار کر کے اپنا گزر بسر کرنے والے انسانوں کے اندر کثرت غذا کے سبب پیدا ہونے والی بیماریاں مثلاً ٹائپ ٹو ذیابیطس، موٹاپے، دل اور خون کی وریدوں سے متعلق عارضے نہیں پائے جاتے تھے۔ پروفیسر تھومس کا کہنا ہے کہ دس ہزار سال قبل کے انسانوں کو اگرچہ دودھ دستیاب تھا لیکن وہ اسے ہضم نہیں کر پاتے تھے۔ جبکہ اس دور میں ہم دودھ کی غذائیت کا سو فیصد استعمال کر رہے ہیں اور ہمارا نظام ہضم بھی اس سے مطابقت رکھتا ہے۔ تاہم پروفیسر تھومس کہتے ہیں کہ قدیم دور کے انسان جس قسم کے پودے اور سبزیاں کھاتے تھے وہ موجودہ دور سے کہیں مختلف تھیں۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس