1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عید پر خریداری ، غریبوں کے بس کی بات نہیں

پاکستان میں عیدالفطر سے قبل بازاروں میں خریداروں کا رش اپنے عروج پر ہے۔ افراط زر اور بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام لوگوں کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

default

پھلوں، سبزیوں، گوشت اور دیگر اشیائے خورد و نوش کی آسمان سے باتیں کرتی ہوئی قیمتوں کے سبب، پہلے ہی سے پریشان حال عوام کو اب عید کے تہوار کے لیے نئے جوتوں اور کپڑوں کی خریداری کا مسئلہ درپیش ہے۔

جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کے مختلف بازاروں میں عید کی خریداری کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس مرتبہ دیگر اشیا کے ساتھ ساتھ ریڈی میڈ کپڑوں اور جوتوں کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ راولپنڈی کے مصروف ترین راجہ بازار میں عید کی خریداری کے لیے آنے والی خاتون زاہد بی بی نے بتایا، ’’ہم نے تو سوچا تھا کہ چھوٹے بچوں کے لیے کپڑے اور جوتے خرید لیں گے لیکن چیزیں اتنی مہنگی بتا رہے ہیں کہ کیا کریں‘‘

ایک اور خاتون جمیلہ اختر نے بتایا، ’’چیزیں اتنی مہنگی ہیں کہ اچھے خاصے امیر لوگ بھی کچھ نہیں خرید سکتے۔عید پر خریداری غریبوں کے کیا امیروں کے بس کی بات بھی نہیں رہی کیونکہ قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔‘‘

Gewürzbazaar in Istanbul

دکانداروں کا بھی کہنا ہے کہ قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے گاہکوں کی قوت خرید کم ہوئی ہے

محبوب علی بھی اپنے بچوں کے ہمراہ بازار میں خریداری کے لیے آئے تھے انہوں نے بتایا، ’’قیمتوں پر بہت زیادہ فرق پڑا ہے۔ غریب بندے کے لیے خریداری کرنا بہت مشکل ہو گئی ہے۔ اب مجبوری ہے کیونکہ بچے تنگ کرتے ہیں کہ یہ لینا ہے، وہ لینا ہے۔ اس لیے مجبوری کے تحت لینی پڑتی ہے، بچوں کی خاطر کرنا پڑتا ہے۔‘‘

عید کی شاپنگ میں شریک ایک کمسن بچی لائبہ نے بتایا، ’’پچھلے سال بھی ہم آئے تھے، جو جوتا دو سو، ڈیڑھ سو کا تھا اب چار سو ساڑھے چار سو میں مل رہا ہے۔ قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ کپڑوں کی جس طرح قیمتیں بڑھی ہیں اسی طرح جوتوں کی بھی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘

دکانداروں کا بھی کہنا ہے کہ قیمتوں میں بے تحاشا اضافے کی وجہ سے گاہکوں کی قوت خرید کم ہوئی ہے، جس کا اثر کاروبار پر بھی پڑا ہے۔ گزشتہ پچیس سال سے جوتوں کے کاروبار سے منسلک محمد صدیق نے بتایا، ’’جو سیل کا مال تھا کبھی ہم 35 روپے میں بیچا کرتے تھے۔ آج وہ 150 روپے سے بھی تجاوز کر گیا ہے اور 150 کی سیل جو گاہک بڑی خوشی سے خریدتا تھا آج وہ بھی نہیں رہی۔ یہ جو چند ایک جوتے پڑے ہوئے ہیں اس قابل بھی نہیں کہ غریب 150 روپے خرچ کرے اور اس کا ڈیڑھ دن بھی نکل جائے۔‘‘

ریڈی میڈ ملبوسات کی بوتیک پر کام کرنے والے علی رضا کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ گزشتہ سال کی نسبت خریداری میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے، ’’جناب مہنگائی بہت ہو گئی ہے، جو سوٹ پہلے 500 کا آتا تھا اب ہزار بارہ سو، پندرہ سو اور دو ہزار میں ہماری اپنی خرید ہے۔ گاہک ریٹ نہیں لگا رہا، بس ہزار آٹھ سو تک ریٹ لگ رہا ہے۔‘‘

رپورٹ: شکور رحیم ، اسلام آباد

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM