1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عید الاضحیٰ اور کھالوں کی جنگ

عید الاضحیٰ کے موقع پر جانوروں کی قربانی مسلمانوں کے لیے انتہائی اہم ہے۔ مگر یہ موقع رقوم جمع کرنے کا بھی نادر موقع ہوتا ہے کیونکہ قربانی کی کھالوں سے کافی زیادہ پیسہ حاصل ہوتا ہے۔

پاکستان میں عام طور پر مذہبی جماعتوں کی اس پر اجارہ داری ہے۔ پاکستانی کے جنوبی بندرگاہی شہر اور تجارتی مرکز کراچی کی ایک اہم سیاسی جماعت ایم کیو ایم کی طرف سے گزشتہ اختتام ہفتہ پر اعلان کیا گیا کہ وہ رواں برس قربانی کی کھالیں جمع نہیں کریں گے۔ ایم کیو ایم کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ ان کے کارکنوں کے خلاف جاری ملٹری آپریشن اس جماعت کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ لہذا گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ ایم کیو ایم کی سماجی تنظیم ’خدمت خلق فاؤنڈیشن‘ رواں برس عید کے موقع پر کھالیں اکٹھی نہیں کرے گی۔

ایم کیو ایم نے کراچی میں گزشتہ برس ہونے والی قربانیوں میں سے 60 سے 70 فیصد کھالیں جمع کی تھیں۔

کھالوں کا کاروبار

پورے ملک میں سیاسی جماعتیں اور مذہبی گروپ ہر سال بطور عطیہ جمع شدہ کھالوں کی فروخت سے 2.5 سے تین ملین روپے تک کی رقم حاصل کرتی ہیں۔

کراچی کے دباغ خانوں یا ٹینریز کی ایسوسی ایشن کے سیکرٹری محمد اکرام کے مطابق، ’’ہم اپنی سالانہ طلب کا 30 سے 35 فیصد عید الاضحیٰ کے ایام میں حاصل کرتے ہیں۔‘‘

اس ایسوسی ایشن کی طرف سے گزشتہ برس کی رپورٹ کے مطابق 2014ء میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر کُل 7.3 ملین جانور ذبح کیے گئے۔ ان میں سے 2.5 ملین گائیں اور بھینسیں تھیں، چار ملین بکرے، 0.8 ملین بھیڑیں اور 30 ہزار اونٹ تھے۔

Afghanistan Opferfest Flash-Galerie

ایم کیو ایم نے کراچی میں گزشتہ برس ہونے والی قربانیوں میں سے 60 سے 70 فیصد کھالیں جمع کی تھیں

پاکستان کے ایک پرائیویٹ ٹیلی وژن جیو ٹی وی سے منسلک ایک صحافی ناصر طفیل نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’کھالیں جمع کرنے کا کام بہت منظم طریقے سے کیا جاتا ہے۔ عام طور پر فلاحی گروپ، مقامی مساجد کے امام اور سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے ارکان عید سے قبل ہی لوگوں کے گھروں پر جاتے ہیں اور انہیں بتاتے ہیں کہ کھالیں انہیں عطیے میں دیں۔‘‘

’’مگر اس تمام معاملے میں بڑی مقدار میں رقوم کا عمل دخل ہے، اس لیے چیزیں ہمیشہ ہی ترتیب میں نہیں رہتیں۔ ہم نے حلیف سیاسی کارکنوں کو کھالوں سے بھری ویگنوں پر حملہ کرتے اور انہیں لُوٹتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘

عسکریت پسندوں کے لیے منافع بخش تہوار

چونکہ رواں برس ایم کیو ایم قربانی کی کھالیں جمع نہیں کر رہی، اس لیے مذہبی جماعتوں اور دینی مدرسوں کو کراچی میں کُھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔ امریکا میں مقیم پاکستان اور اسلامی شدت پسندی کے ماہر عارف جمال نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’کالعدم عسکری تنظیمیں عید الاضحیٰ کے موقع پر کئی ملین ڈالرز جمع کرتی ہیں مگر سیاسی جماعتوں جیسا کہ ایم کیو ایم کو درست معنوں میں فلاحی کاموں کے لیے فنڈز اکھٹے کرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘‘

حکومت پر عدم اعتماد کے باعث زیادہ تر پاکستانی رقوم کی شکل میں عطیات اور قربانی کی کھالیں براہ راست فلاحی تنظیموں کو دینے کو فوقیت دیتے ہیں۔ گو بعض قانونی طور پر جائز فلاحی ادارے ایسے بھی ہیں جو اسلامک ری پبلک پاکستان میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں مگر شدت پسند گروپ رمضان اور عید الاضحیٰ کے موقع پر کئی ملین روپے عطیات کی شکل میں اکھٹے کرتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ کالعدم عسکریت پسند تنظیمیں جن کا تعلق القاعدہ اور تحریک طالبان پاکستان وغیرہ سے ہے وہ بعض اسلامی مہینوں کے دوران لوگوں سے بڑی بڑی رقوم بطور عطیہ وصول کرتے ہیں۔ یہ گروپ مختلف ناموں سے کام کرتے ہیں اور انہوں نے مختلف فاؤنڈیشنیں بنا رکھی ہیں جو بظاہر قانونی دکھائی دیتی ہیں۔ اس لیے حکام کی طرف سے ان جماعتوں کے خلاف کارروائی مشکل ہوتی ہے۔

’’کھالیں جمع کرنے کا کام بہت منظم طریقے سے کیا جاتا ہے‘‘

’’کھالیں جمع کرنے کا کام بہت منظم طریقے سے کیا جاتا ہے‘‘

تاہم اسلامی شدت پسند تنظیم جماعت الدعوة کے ترجمان یحیٰ مجاہد اس طرح کے الزامات کی تردید کرتے ہیں، ’’اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ان تنظیموں کا دہشت گردی سے کوئی تعلق ہے۔ ملکی عدالتیں ہمیں کلیئر قرار دے چکی ہیں۔ لہذا ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم عطیات جمع کریں۔‘‘

مبینہ طور پر ریاستی تحفظ

مگر حکومت نے آخر کالعدم مذہبی تنظیموں کی طرف سے آنکھیں کیوں بند کر رکھی ہیں۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ارشد محمود کہتے ہیں کہ کالعدم قرار دیے جانے کے باوجود پاکستان میں ان عسکری تنظیموں کے ماننے والوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ تنظیمیں عطیات جمع کرنے کے قابل ہیں۔

ڈی ڈبلیو سے بات کرتے ہوئے ارشد محمود کا کہنا تھا، ’’کالعدم تنظیموں کا فلاحی تنظیموں کی شکل میں ایک عوامی چہرہ بھی ہے۔ پابندی سے معاشرے میں ان کے نیٹ ورک اور ڈھانچے کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کوئی بھی غیر مذہبی تنظیم ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی، کیونکہ لوگ مذہبی تنظیموں کو عطیات دینا پسند کرتے ہیں۔