عیدالاضحیٰ پر بھارتی کشمیر میں ایک اور ہلاکت | حالات حاضرہ | DW | 13.09.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عیدالاضحیٰ پر بھارتی کشمیر میں ایک اور ہلاکت

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر سکیورٹی انتہائی سخت ہے۔ اس کے باوجود بانڈی پورہ سمیت تین مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں ایک کشمیری ہلاک ہو گیا ہے۔

بھارت کے زیر کنٹرول کشمیر کے شمالی شہروں بانڈی پورہ اور شوپیاں میں عیدالاضحیٰ کے موقع پر نئی دہلی حکومت مخالف مظاہرے کیے گئے۔ ان مظاہروں کے دوران پولیس کے ساتھ مشتعل مظاہرین کی جھڑپوں میں ایک ہلاکت اور دو درجن سے زائد کے زخمی ہونے کا بتایا گیا ہے۔ ایک پولیس اہلکار نے شناخت مخفی رکھتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ بانڈی پورہ میں ہونے والے مظاہرے میں ایک کشمیری کی ہلاکت ہوئی ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق تین مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

کشمیر وادی کے تقریباً سارے کلیدی شہر کرفیو کی لپیٹ میں ہیں۔ مجموعی طور پر کاروبار اور عام خرید و فروخت کا عمل ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ لوگ عید کے دن گھروں میں ایک طرح سے بند ہو کر رہ گئے ہیں۔ لوگوں میں قربانی یا عید کا ہلاگلہ کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔ بڑی مساجد میں عید کی نماز بھی ادا نہیں کی گئی بلکہ مختلف گھروں میں لوگ چھپ چھپا کر چھوٹے چھوٹے گروپوں میں جمع ہو کر نماز پڑھ سکے۔

ریاستی پولیس نے سارے علاقے کی نگرانی کے لیے ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز کا استعمال شروع کر دیا ہے۔ کشمیری علیحدگی پسندوں کی حمایت اور بھارت مخالف ریلیوں میں ہلاکتوں کی تعداد اسی تک پہنچ گئی ہے۔ مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس آنسو گیس کے علاوہ چھرے والی بندوقیں بھی استعمال کر رہی ہے۔ ان پرتشدد مظاہروں میں دو پولیس اہلکار بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

Kaschmir Proteste in Srinagar

سری نگر کی ایک گلی میں نکالے گئے احتجاجی مظاہرے کے شرکاء

بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں آج عیدالاضحیٰ کے موقع پر لوگوں نے بڑی شدت کے ساتھ برہان وانی اور ریاض احمد شاہ کو یاد کیا۔ مختلف چھوٹے چھوٹے شہروں اور قصبوں کے قبرستانوں میں بھارتی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں اور مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی قبروں پر پھول چڑھانے کے لیے لوگ جوق در جوق گھروں سے نکلے۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا کہنا تھا کہ آج سارا کشمیر اپنے ہلاک شدگان کے سوگ میں افسردہ اور اداس ہے۔

اس موقع پر برہان وانی کے والد مظفر وانی نے اپنے آبائی علاقے ترال میں اے ایف پی کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کا بیٹا بظاہر کسی مقصد کے لیے مرا لیکن اب وہ میرا نہیں سارے کشمیر کا بیٹا بن کر رہ گیا ہے اور میرا دکھ سای وادی میں پھیل چکا ہے۔ برہان وانی علیحدگی پسند گروپ حزب المجاہدین کا ایک نمایاں نوجوان لیڈر تھا۔

DW.COM