1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

’عورت کو پیٹنا جائز ہے تو مردوں کی پٹائی بھی جائز‘

پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کے منظرعام پر آنے کے بعد پورے ملک کی خواتین میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور حقوق نسواں کی تقریباﹰ سبھی تنظیمیں ان سفارشات پر شدید تنقید کر رہی ہیں۔

Häusliche Gewalt in Afghanistan

بہت سے واقعات میں گھریلو تشدد خونریز شکل بھی اختیار کر جاتا ہے

اس موضوع پر نہ صرف انسانی حقوق کی تنظیمیں تنقید کر رہی ہیں بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ مولانا شیرانی کی شخصیت کے بارے میں بھی بہت سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ’روزن‘ کی ڈائریکٹر شبانہ عارف نے اس بارے میں ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ اتنی غیر سنجیدہ اور ناقابل عمل سفارشات صرف ہمیں تنگ کرنے لیے پیش کی جاتی ہیں۔ ان کا حقیقت سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مولانا صاحب کیا چاہتے ہیں؟ کیا ملک کی نصف آبادی کو پھر سے گھروں میں بند کر کے مار پیٹ کی جائے؟ کیا وہ دوبارہ سے غلامی ایکٹ نافذ کروانا چاہتے ہیں؟ کہیں پھر سے تو پچھلی صدی میں جانے کا ارادہ نہیں؟‘‘

شبانہ عارف نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ فی الحال تو اسلامی نظریاتی کونسل نے جو کچھ کہا ہے، وہ صرف سفارشات ہیں۔ اس لیے ان کے بارے میں زیادہ سوچنا بھی وقت کا ضیاع ہو گا۔ ’’لیکن اگر حکومت نے ان پر عملدرآمد کا فیصلہ کیا تو ہم پوری قوت سے ان سفارشات کو مسترد کر دیں گے۔‘‘

پاکستان میں انسانی حقوق کی ایک سینیئر اور بہت سرگرم کارکن طاہرہ عبداللہ نے ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت رائج ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل کو قانون سازی کا کوئی اختیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا شیرانی اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں کیونکہ ان کے ادارے کی حیثیت مشاورتی ہے، یعنی یہ کونسل صرف پارلیمان کو کسی مخصوص قانون سازی کے وقت بس رائے دے سکتی ہے۔

طاہرہ عبداللہ نے کہا، ’’یہ جو 163 شقوں پر مشتمل مسودہ تیار کیا گیا ہے، یہ صرف ایک رائے اور مشورہ ہے، جس کی ہم مکمل طور پر مذمت کرتے ہیں۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت پاکستان ان سفارشات کا فوری طور پر نوٹس لے اور قانونی چارہ جوئی کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا شیرانی کو ان کے عہدے سے برطرف کیا جائے کیونکہ انہوں نے قانون اور آئین کو مذاق بنا رکھا ہے۔‘‘

طاہرہ عبداللہ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ مولانا شیرانی کی تعلیمی قابلیت کتنی ہے؟ انہوں نے کہا، ’’ہماری اطلاع کے مطابق تو وہ نہ پرائمری پاس ہیں اور نہ اسکینڈری اور نہ ہی مدرسہ پاس۔ جب مولانا فضل الرحمان نے ان کو ٹکٹ دیا تھا تو اس وقت بھی ان کی جعلی ڈگری کا بہت چرچا ہوا تھا۔‘‘

اسی موضوع پر پاکستان میں عورت فاؤنڈیشن نامی ملکی ادارے کی نیشنل پروگرام منیجر فیروزہ زہرہ نے ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ انتہائی حیران کن بات ہے اور تحقیق کی متقاضی بھی کہ ایک ایسے وقت پر جب ملا منصور مارا گیا ہے اور ملکی سیاست میں پاناما لیکس کا شور ہے، اچانک یہ سفارشات سامنے آ گئی ہیں۔

فیروزہ زہرہ نے کہا کہ ان سفارشات کی نہ تو کوئی ڈیمانڈ تھی نہ ہی کوئی تذکرہ، ’’ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ توجہ ہٹانے کا طریقہ ہے۔ اب دیکھ لیں، فوری طور پر پورے میڈیا میں سارے ٹاک شوز اسی موضوع کے گرد گھوم رہے ہیں۔ ہم ان ساری سفارشات کو مسترد کرتے ہیں اور ایسی کسی بھی سفارش کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔ ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ ویسے بھی اگر کبھی عورت کو پیٹنا جائز ہوا، تو پھر مردوں کو مارنا بھی جائز ہو گا۔‘‘

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین مولانا شیرانی نے ابھی حال ہی میں ملکی میڈیا کو بتایا تھا کہ اسلام میں عورت پر تشدد کی اجازت نہیں لیکن پھر بھی ان کی پیش کردہ سفارشات میں کہا گیا ہے کہ شوہر کو بیوی کی ہلکی پٹائی کی اجازت ہونی چاہیے۔

مولانا شیرانی نے پانچویں جماعت کے بعد مخلوط تعلیم، خاتون نرسوں کی جانب سے مرد مریضوں کی تیمار داری اور تجارتی اشتہارات میں خواتین کے کام کرنے پر پابندی سمیت بہت سی دیگر تجاویز بھی پیش کی تھیں، جن پر بلاتاخیر تنقید شروع ہو گئی تھی۔

DW.COM