1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عوامی جمہوریہ چین کے ساٹھ برس

يکم اکتوبر کوعوامی جمہوريہ چين کے قيام کو ساٹھ برس مکمل ہوگئے۔ اس موقع پر چين کئی کاميابيوں پر جشن مناسکتا ہے تاہم چین کو اپنے ماضی پر تنقيدی جائزے کی ہمت نہيں۔

default

يکم اکتوبر کوعوامی جمہوريہ چين کے قيام کو ساٹھ برس مکمل ہوگئے

برطانوی ناول نويس جارج اورويل نے کہا تھا: جو حال کی جانچ کرتا ہے وہ ماضی کی جانچ کرتا ہے اور جو ماضی کی جانچ پرکھ کرتا ہے وہ مستقبل کی جانچ کرتا ہے۔ چين میں کميونسٹ پارٹی حال کی جانچ پڑتال کرتی ہے اور وہ ماضی پر بھی گرفت رکھتی ہے۔ اس کا اندازہ ماؤ زے تنگ کے مجسموں سے ہوتا ہے۔ پورے ملک ميں ماؤ کے مجسموں کی درستگی اور بحالی کا کام جاری ہے۔ فلموں ميں انہيں عظيم ہيرو اور چين کا نجات دہندہ کہا جارہا ہے۔ تاہم ماضی کے تباہ کن حالات کا ذکر نہيں کيا جاتا۔

China Flash-Galerie 60 Jahre Volksrepublik 1997 Hongkong Sonderverwaltungszone

تعليم کے سلسلے ميں چين نے زبردست ترقی کی ہے

تقريباً پچاس سال قبل انسانی غلطيوں کی بنا پر برپا ہونے والی تاريخ کی سب سے بڑی فاقہ کشی کے دوران تقريباً تيس ملين انسان لقمہءاجل بن گئے تھے۔ اس بارے ميں چين ميں منظر عام پر کوئی بحث نہيں ہوتی۔ حتیٰ کہ مؤرخين کو بھی اس بارے ميں تحقيق اور اشاعت کے سلسلے ميں چين ميں شديد مشکلات کا سامنا ہے۔

چين ميں ساٹھويں قومی سالگرہ کے موقع پر ايک بہت شاندار فوجی پريڈ ميں طاقت کا مظاہرہ کيا گيا، ليکن داخلی طور پر سلامتی کے خدشات اتنے زيادہ ہیں کہ بيجنگ ميں باورچی خانے ميں استعمال ہونے والے چاقوؤں کی فروخت پر پابندی لگا دی گئی اورسڑکوں پر مشين گنوں سے مسلح فوجيوں کا پہرہ لگا ديا گيا۔ چين خود کو ايک ايسے ملک کے طور پر پيش کرتا ہے، جس ميں بہت سی اقوام خوشی اور اطمينان کے ساتھ ايک خاندان کی طرح رہ رہی ہيں۔ تاہم خودمختار علاقے تبت کو ساٹھويں سالگرہ سے پہلے غير ملکی سياحوں کے لئے بند کرديا گيا۔ اس موقع پرحفاظتی انتظامات اولمپک کھيلوں سے بھی زيادہ ہيں۔

China Flash-Galerie 60 Jahre Volksrepublik 1989 Studentenbewegung Tiananmen Platz Peking

اس موقع پرحفاظتی انتظامات اولمپک کھيلوں سے بھی زيادہ ہيں

ہم آہنگی کے تمام دعووں کے باوجود چينی قيادت کو خود اپنے عوام کے بارے ميں شديد شکوک اور بد گمانی ہے۔ روٹی اور کھيلوں کے ذريعہ لوگوں کو خاموش رکھنے اور مزيد سوالات اٹھانے سے روکنے کی کوشش کی جارہی ہےحالانکہ پچھلے ساٹھ برسوں ميں چين نے بہت کچھ حاصل کيا ہے۔ اقتصادی ترقی بے مثال ہے۔ کروڑوں انسانوں کو انتہائی غربت سے چھٹکارا دلايا جا چکا ہے۔ تعليم کے سلسلے ميں چين نے زبردست ترقی کی ہے اور اس کے پاس دنيا ميں زرمبادلہ کے سب سے بڑے ذخائر ہيں۔ اس کے باوجود چينی لیڈر تنقيد پر ايک طاقتور فريق کی حيثيت سے پرسکون ردعمل ظاہر نہيں کرتےبلکہ وہ ايک کمزور کی طرح سے اعصابی تناؤ کا ثبوت ديتے ہیں۔ ناقدين کو بند کرديا جاتا ہے اور ماضی کے تاريک دور کا کوئی تذکرہ نہيں کیا جاتا۔

تبصرہ : ماتھياس فون ہائن / شہاب احمد صدیقی

ادارت : عاطف توقیر