1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عوامی انقلاب سے القاعدہ کا مستقبل خطرے میں

سماجی امور سے متعلق بعض ماہرین کا خیال ہے کہ جس طرح تیونس اور مصر میں آمرانہ طرز حکومت کے خلاف عوامی طاقت کا مظاہرہ ہوا ہے اس سے القاعدہ جیسی شدت پسند تنظیم کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔

default

ماہرین کے مطابق اس طرح کے اکثریتی مسلم آبادی والے ممالک میں عوام کی اکثریت کی زندگیاں تلخ تھیں لہذا وہ بہت جلد تشدد پر آمادہ ہوجاتے تھے۔ اب عوامی طاقت کے ان کامیاب مظاہروں کے بعد امکان ہے کہ لوگوں میں یہ احساس بیدار ہوگا کہ تشدد سے ہٹ کر بھی ایک راستہ ہوتا ہے۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر مصر میں بھی تیونس کی طرح انقلاب آگیا تو القاعدہ جیسی تنظیموں کو وہاں کے شہریوں کو اپنے ساتھ ملانے میں دشواری ہوسکتی ہے۔

واضح رہے کہ مصر، سب سے زیادہ آبادی والا عرب ملک ہے جبکہ القاعدہ کے نائب ایمن الظواہری کا تعلق بھی مصر ہی سے ہے۔ وہ 90ء کی دہائی میں صدر حسنی مبارک کے خلاف مصر کو ایک ’اسلامی ریاست‘ بنانے کی ناکام تحریک چلا چکے ہیں۔

Osama bin Laden und Ayman el Zawahiri

اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری

لیبیا میں القاعدہ سے منسلک ایک گروہ کے سابق منتظم نعمان بن عثمان کے بقول القاعدہ جیسی تنظیمیں لمبے عرصے سے لوگوں کو ان ’جابر حکمرانوں‘ سے چھٹکارا دلانے کے خواب دکھا رہی تھیں۔ نعمان کے مطابق اب تمام عرب ریاستوں کے عوام ٹیلی وژن پر خود دیکھ سکتے ہیں کہ عوامی طاقت باآسانی انہیں ایسے حکمرانوں سے چھٹکارا دلا سکتی ہے۔

ہالینڈ میں انسداد دہشت گردی کے مرکز کے ڈائریکٹر پیٹر کنوپے کے بقول کامیاب عوامی احتجاج نے القاعدہ کے نظریےکو غلط ثابت کردیا ہے۔ ان کے بقول تیونس میں عوام کے اٹھ کھڑے ہونے کا سبب خودکشی کی ایک ایسی حقیقی کوشش تھی، جس کے پیچھے حقیقی عوامل کار فرما تھے۔ پیٹر کنوپے محمد بو عزیزی نامی اس نوجوان کا حوالہ دے رہے تھے، جسے پولیس اہلکاروں نے پرمٹ کے بغیر پھل بیچنے پر زدوکوب کیا تھا۔ بو عزیزی کی خودسوزی کی کوشش نے تیونس بھر میں انقلاب برپا کر ڈالا۔

Egypt.jpg

مصری عوام قاہرہ کی سڑکوں پر سراپا احتجاج

القاعدہ کی مقامی تنظیم نے تیونس کے انقلاب کو سراہتے ہوئے خطے کے نوجوانوں پر زور دیا تھا کہ وہ ان کا ساتھ دیں۔ ابھی تک القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی جانب سے اس صورتحال پر کسی قسم کا بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ شمالی افریقی ملک موریتانیہ میں القاعدہ کے سربراہ ابو ال منظر نے البتہ ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں ’مجاہدین‘ سے مظاہروں میں شرکت کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

ایشیا پیسیفک فاؤنڈیشن مں سلامتی کے امور سے وابستہ سجن گوہل کے بقول اگر صدر مبارک اپنا اقتدار بچانے یا اپنی پسند کی نئی حکومت بنانے میں کامیاب ہوگئے تو القاعدہ ایک بار پھر لوگوں کو ’نئے مصر‘ کا خواب دکھا کر مائل کرے گا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM