1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عوامیت پسند رہنماؤں کی بساط کا اگلا مہرہ اٹلی تو نہیں؟

اطالوی وزیر اعظم ماتیو رینزی اور ان کی ڈیموکریٹک پارٹی بالآخر پارلیمانی تعطل ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے لیے انہوں نے ایک ریفرنڈم کرانے کا اعلان کیا ہے۔ اگر ان کی یہ کوشش ناکام ہو گئی تو رینزی مستعفی ہو جائیں گے۔

برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلاء یعنی بریگزٹ اور امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کے بعد متعدد ماہرین کے خیال میں اگلے برس کے اوائل میں فرانس میں ہونے والے صدارتی انتخابات مغربی جمہوریت کا ایک اور امتحان ثابت ہوں گے۔ اسی طرح چار دسمبر کو اٹلی میں آئینی ترامیم کے لیے ایک ریفرنڈم کرایا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم ماتیو رینزی امید کر رہے ہیں کہ ریفرنڈم کے بعد اٹلی کا سیاسی ڈھانچہ مزید مستحکم ہو گا کیونکہ گزشتہ ستر برسوں میں اٹلی میں تریسٹھ حکومتیں قائم ہو چکی ہیں۔ اطالوی پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے پاس یکساں اختیارات ہیں اور اگر اس ریفرنڈم کا جواب ’ہاں‘ میں آیا تو یہ موجودہ نظام ختم ہو جائے گا۔

Brüssel Brexit Gipfel Matteo Renzi

ریفرنڈم کی ناکامی کی صورت میں ماتیو رینزی مستعفی ہو جائیں گے

اس ریفرنڈم میں سینیٹ کے اختیارات کو محدود کرنے کی بات کی گئی ہے۔ اس طرح  عوامی نمائندے حکومت کو گرا نہیں سکیں گے اور قانون سازی میں رکاوٹ نہیں ڈال سکیں گے اور حکومت کے اثر و رسوخ اور اختیارات میں اضافہ ہو گا۔رینزی پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ اگر ان کی یہ کوشش ناکام ہوئی تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ ایسی صورت میں اٹلی کے عوامیت پسند اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ رینزی نے ایک آئینی مسئلے کو سیاسی مسئلہ بنا لیا ہے، جو کوئی خوش آئند امر نہیں ہے۔

اپنی کل 951 نشستوں کے ساتھ اطالوی پارلیمان دنیا کی تیسری بڑی قومی اسمبلی ہے۔ موجودہ سیاسی نظام کی ایک خامی یہ ہے کہ دونوں ایوانوں کے  یکساں اختیارات ہونے کی وجہ سے کوئی بھی قانون سازی انتہائی مشکل کام ہے اور کبھی کبھار یہ ایک انتہائی طویل عمل ثابت ہوتا ہے۔ اس تناظر میں روم کی جان کابوٹ یونیورسٹی سے منسلک سیاسی امور کے ماہر فرانکو پاونسیلو نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’اگر آپ کسی قانونی مسودے میں کوئی زیر زبر بھی لگانا چاہیں تو بھی دوسرے ایوان سے اجازت لینا پڑتی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ اٹلی گزشتہ کئی دہائیوں سے اسی نظام میں الجھا ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیر اعظم رینزی کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں کیونکہ ناکامی کی صورت میں وہ اپنے مستعفی ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اس لیے عوام کی ایک بڑی تعداد ملک کو مستحکم کرنے اور کسی سیاسی خلا سے بچنے کے لیے اس ریفرنڈم میں آئینی ترامیم کے حق میں ووٹ دے گی۔