1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

اہم عالمی خبریں | 22.07.2017 | 07:00

امریکی بمباری سے 16 افغان سکیورٹی اہلکار ہلاک

جنوبی افغان صوبے ہلمند کے پولیس سربراہ نے کہا ہے کہ غلطی سے کیے گئے ایک امریکی فضائی حملے میں کم از کم 16 افغان پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاکتوں کا پتا اس حملے کے بعد تباہ ہونے والی عمارت کے جائزے کے بعد چلا۔ امریکی فوج کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بھی اس حملے کی تصدیق کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ علاقے میں فضائی کارروائی اصل میں افغان فورسز کی مدد کے لیے طالبان کے خلاف کی گئی تھی۔ واضح رہے کہ ہلمند صوبے کا زیادہ تر حصہ طالبان کے قبضے میں ہے۔

عدالتی نظام میں ردوبدل، پولینڈ کی سینیٹ نے منظوری دے دی

پولینڈ کے ایوان بالا نے عدالتِ عظمی کے نظام میں ردوبدل کا بل منظور کر لیا ہے۔ اس طرح اب حکومت کو اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کی تقرری سے متعلق بے پناہ اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔ اس قانونی بل پر پولینڈ میں بڑے مظاہرے بھی جاری ہیں جب کہ یورپی یونین کی جانب سے بھی پولینڈ کو متنبع کیا جا چکا ہے کہ وہ عدلیہ کی آزادی کو محدود نہ کرے۔ جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب وارسا میں ہزاروں افراد نے اس حکومتی اقدام کے خلاف بڑے مظاہرے کئے۔ یہ افراد ’’آزاد عدلیہ‘ کے نعروں کے ساتھ موم بتیاں جلا کر پرامن انداز سے احتجاج کر رہے ہیں۔

فلپائن کے جنوب میں مارشل لا میں توسیع، پارلیمان کا اجلاس

فلپائن کے جنوبی حصے میں نافذ مارشل لا میں توسیع کے لیے فلپائن کی پارلیمان کا ایک خصوصی اجلاس جاری ہے۔ صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے نے ملک کے جنوبی حصوں میں شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ کے خلاف جاری لڑائی کے تناظر میں مارشل لا میں توسیع کی درخواست کی تھی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق صدر ڈوٹیرٹے ممکنہ طور پر ملک کے جنوبی حصوں میں مارشل لا میں توسیع کی بابت پارلیمانی منظوری حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ فلپائن کے جنوبی شہر ماراوی کے مرکزی حصے میں شدت پسندوں نے قبضہ کر رکھا ہے، جن کے خلاف گزشتہ دو ماہ سے فوجی آپریشن جاری ہے۔

امریکا نے بشارالاسد مخالف باغیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی روک دی

امریکا نے شامی صدر بشارالاسد کی مخالف فورسز کو ہتھیاروں کی فراہمی روک دی ہے۔ ایک اعلیٰ امریکی جنرل نے جمعے کے روز تصدیق کی ہے کہ صدر ڈونڈ ٹرمپ کی ہدایات پر باغیوں کو مسلح کرنے کا عمل روک دیا گیا ہے۔ اس سے قبل امریکی فورسز اعتدال پسند باغیوں کو تربیت اور ہتھیار فراہم کر رہی تھیں۔ امریکی خصوصی فورسز کے کمانڈر ٹونی تھومس کے مطابق یہ اقدام روس کو رعایت دینے سے متعلق نہیں ہے۔ واضح رہے کہ سن 2013ء میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے شامی باغیوں کو ہتھیاروں کی فراہمی کا آغاز کیا تھا۔

مذاکرات کے لیے تیار ہیں، قطری امیر

قطری امیر شیخ تمیم بن حماد الثانی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ہم سایہ ممالک کے ساتھ جاری تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے۔ گزشتہ روز ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں قطری امیر نے کہا کہ ان کا ملک انسداد دہشت گردی کے لیے اقدامات کرتا رہے گا۔ واضح رہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے دوحہ حکومت پر دہشت گردی کی معاونت کا الزام عائد کرتے ہوئے اس کے ساتھ تمام تر سفارتی اور سفری تعلقات منقطع کر دیے تھے۔ دوحہ حکومت دہشت گردی کی معاونت کے ان الزامات کو رد کرتی ہے۔

جرمنی میں مقیم ترک باشندوں کا تعلق جرمنی سے، گابریل

جرمن وزیرخارجہ زیگمار گابریل نے ہفتے کے روز ایک اخباری انٹرویو میں کہا ہے کہ ترکی کے ساتھ جرمنی کے تعلقات کتنے بھی کشیدہ کیوں نہ ہو جائیں، جرمن حکومت، اِس ملک میں بسنے والے ترک باشندوں کا ساتھ دے گی۔ جرمن اخبار بلڈ میں شائع ہونے والے اس انٹرویو میں کہا کہ جرمن حکومت کو ترک باشندوں سے کوئی عداوت نہیں ہے، تاہم معصول جرمن شہریوں کو سزائے قید دینے پر جرمنی خاموش نہیں بیٹھے گا۔ واضح رہے کہ ترکی میں انسانی حقوق کے چھ کارکنان بہ شمول ایک جرمن شہری کو سزائے قید دینے پر جرمنی اور ترکی کے تعلقات شدید کشیدہ ہو گئے ہیں۔

قطری تنازعے کے حل کی کوششوں پر مطمئن ہیں، ٹِلرسن

امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹِلرسن کا کہنا ہے کہ وہ قطری تنازعے کے حل کے لیے کی جانے والی کوششوں پر مطمئن ہیں۔ عمان کے وزیرخارجہ یوسف بن علوی بن عبداللہ سے واشنگٹن ملاقات سے قبل صحافیوں سے بات چیت میں ٹلرسن نے کہا کہ قطری تنازعے کے حل کی جانب مثبت پیش رفت ہو رہی ہے۔ اسی تناظر میں ٹِلرسن نے دس روز قبل خطے کا دورہ بھی کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا قطری حکومت کے ساتھ دہشت گردی، دہشت گردی کی مالی معاونت اور انسدادِ دہشت گردی کے متعدد امور پر بات چیت میں مصروف ہے اور اس سلسلے میں قطری حکومت اقدامات کر رہی ہے۔

یونانی جزیرہ زلزلے کی تباہ کاریوں کے بعد بحالی کا منتظر

یونانی سیاحتی جزیرہ کوس گزشتہ روز شدید زلزلے کے بعد اب تک امدادی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب اس جزیرے کے قریب آنے والے زلزلے کی وجہ سے یہاں دو افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ اس زلزلے کے بعد کوس کی بندرگاہ کو بند کر دیا گیا تھا، جب کہ وہاں سیاحتی سرگرمیوں بھی جامد ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ زخمی ہونے والے افراد میں سے سات کی حالت تشویش ناک تھی، جنہیں طبی امداد کے لیے ایتھنز منتقل کیا جا چکا ہے۔

ابوبکر البغدادی شاید زندہ ہے، امریکی وزیردفاع

امریکی وزیردفاع جیمس میٹِس کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کا سربراہ ابوبکر البغدادی زندہ ہے۔ انہوں نےکہا کہ ابھی تک ابوبکر البغدادی کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ دوسری جانب شامی تنازعے پر نگاہ رکھنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ البغدادی مشرقی شامی شہر دیرالزور میں ہلاک ہو چکا ہے۔ تاہم یہ بات نہیں بتائی گئی ہے کہ البغدادی کب اور کیسے مارا گیا۔ اس سے قبل روسی حکام کی جانب سے البغدادی کی ہلاکت کے دعوے سامنے آ چکے ہیں۔

مسجدالاقصیٰ احتجاج جاری، تین فلسطینی ہلاک

جمعے کی شام بیت المقدس کے قریبی علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں تین فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب مغربی کنارے میں ایک فلسطینی نے ایک اسرائیلی خاندان کے تین افراد کو چاقو سے کیے گئے ایک حملے میں ہلاک کر دیا۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے 50 برس سے کم عمر مسلمانوں کی بیت المقدس تک رسائی پر پابندی عائد کرتے ہوئے مسجد الاقصیٰ کی جانب جانے والے تمام راستوں پر میٹل ڈیٹیکٹر نصب کر دیے ہیں، جب کہ فلسطینی اسے اسرائیلی اقدام کو بیت المقدس پر قبضے کی کوشش قرار دیتے ہوئے احتجاج کر رہے ہیں۔

ایران نے امریکی شہریوں کو رہا نہ کیا تو اسے سنگین نتائج بھگتا ہوں گے، ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو دھمکی دی ہے کہ اگر ایران میں زیرحراست امریکی شہریوں کو رہا نہیں کیا گیا، تو تہران حکومت کو ’نئے اور سنگین نتائج‘ کا سامنا کرنا ہو گا۔ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا کہ دس برس قبل گرفتار کئے گئے امریکی شہری رابرٹ لیونسن کو فوری طور پر رہا کرے۔ لیونسن دس برس قبل ایران میں لاپتہ ہوئے تھے۔ ٹرمپ نے تہران حکومت سے دوہری شہریت کی حامل کاروباری شخصیت سیامک نظامی اور ان کے والد کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔

شمالی سینائی میں تیس مشتبہ عسکریت پسند ہلاک، مصر

مصری سکیورٹی فورسز نے شمالی سینائی میں زمینی اور فضائی کارروائیوں کے نتیجے میں تیس مشتبہ عسکریت پسندوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔ جمعے کے روز جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ سینائی کے شمال میں یہ عسکری کارروائیاں گزشتہ چار روز سے جاری ہیں۔ سینائی میں سن 2013ء سے شدت پسندانہ حملوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے اور اس دوران سینکڑوں سکیورٹی اہلکار مارے جا چکے ہیں۔ حکومتی بیان میں بتایا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں چار شدت پسندوں کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔

آڈیو سنیے 04:00
ویڈیو دیکھیے 02:36