1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عمونا کے آباکاروں کو ہٹانا، نیتن ہاہو حکومت کا امتحان

فلسطینی علاقے مغربی کنارے میں عمونا کے مقام پر ایک پہاڑی پر موجود 50 سفید رنگ کے کارروان یا رہائشی گاڑیاں بینجمن نیتن یاہو کی نو وسعت شدہ سخت گیر حکومت کے لیے ایک امتحان بن کر ابھر رہی ہیں۔

اسرائیلی سپریم کورٹ کے ایک حکم کے مطابق حکومت کو رواں برس کے اختتام تک اس مقام کو آبادکاروں سے خالی کرانا ہے۔ مگر توقع یہی کی جا رہی ہے کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کے سلسلے میں نہ صرف اتحادی حکومت کے اندر سے مزاحمت ہو گی بلکہ سکیورٹی فورسز کو کابینہ کے اہم ارکان کی خواہشات کے خلاف جانا ہو گا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق عمونا کے مقام پر موجود یہ عارضی آباد کاری دراصل مغربی کنارے کے علاقے میں اُن قریب 100 ایسی آبادیوں میں سے سب سے بڑی ہے جو بلا اجازت بنائی گئی ہیں مگر حکومت کی طرف سے عام طور پر ان سے نظر اندازکیا جاتا ہے۔ یہ آبادی ایک طرح سے آباد کاروں کی طرف سے حکومتی فیصلہ تسلیم نہ کرنے کی بھی ایک علامت بن چکی ہے کیونکہ ایک دہائی قبل یہاں سے کچھ لوگوں کو ہٹانے کی کوشش کی گئی تو سکیورٹی فورسز اور آبادکاروں کے درمیان پر تشدد جھڑپیں پھُوٹ پڑی تھیں۔ عدالت کی طرف سے 2014ء میں جاری کیے جانے والے فیصلے پر عملدرآمد کی صورت میں بھی ایسی ہی صورتحال کی توقع کی جا سکتی ہے۔

ایک دہائی قبل یہاں سے کچھ لوگوں کو ہٹانے کی کوشش کی گئی تو سکیورٹی فورسز اور آبادکاروں کے درمیان پر تشدد جھڑپیں پھُوٹ پڑی تھیں

ایک دہائی قبل یہاں سے کچھ لوگوں کو ہٹانے کی کوشش کی گئی تو سکیورٹی فورسز اور آبادکاروں کے درمیان پر تشدد جھڑپیں پھُوٹ پڑی تھیں

گزشتہ ہفتے ہونے والی ایک حیرت انگیز پیشرفت کے طور پر اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے ملکی وزیر دفاع موشے یالون کو ان کے عہدے سے الگ کر کے ان کی جگہ اسرائیل بیت نو پارٹی کے ایویگڈور لیبرمان کو یہ عہدہ سونپ دیا تھا۔ سخت گیر نظریات کے حامل لیبرمان خود بھی آباد کار ہیں اور بطور وزیر دفاع اب آبادکاری سے متعلق معاملات بھی اب ان کی ذمہ داری میں آ گئے ہیں۔ اسرائیل بیت نو پارٹی کی حکومت میں شمولیت کے بعد اسرائیلی قوم پرستوں اور نتین یاہو حکومت میں شامل آبادکاری کے حمایتی ارکان کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد اس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ نیتن یاہو پر یہ دباؤ ڈالا جائے گا کہ وہ عمونا سے آبادکاروں کو ہٹانے کے عمل کو رکوائیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو چونکہ خود یہودی آباد کاری کے حق میں ہیں اِس لیے اس بات سے قطع نظر کے ان کی کابینہ میں کون شامل ہے اور کون نہیں عمونا سے آباد کاروں کو ہٹانے کا عمل آسان نہیں ہو گا۔ آبادکاری پر نظر رکھنے والے گروپ ’پِیس ناؤ‘ سے تعلق رکھنے والی ہگیت اوفران کے بقول، ’’میرے خیال میں وزیراعظم آباد کاروں کو ہٹائے جانے کے خلاف وہ سب کچھ کریں گے جو وہ کر سکتے ہیں۔‘‘ وہ کہتی ہیں کہ اسرائیل کو عدالتی فیصلے پر عمل کرنا چاہیے مگر حکومت روایتی طور پر اس سے بچنے، اس کو تبدیل کرنے کے طریقے ڈھونڈتی ہے یا پھر آباد کاری کے نئے منصوبے بناتی ہے تاکہ ایسے لوگوں کو وہاں سے ہٹانے سے روکا جا سکے۔