1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عمر عبداللہ کشمیر کے کم عمر ترین وزیر اعلیٰ ہوں گے

بھارت کے زیر انتظام ریاست جموّں و کشمیر میں مخلوط حکومت کی تشکیل کے سلسلے میں منگل کو جموّں و کمشیر نیشنل کانفرنس اور کانگریس پارٹی کے درمیان ایک سمجھوتہ ہوگیا ہے۔

default

نیشنل کانفرنس کے حامی اپنے رہنما عمر عبداللہ کا استقبال کرتے ہوئے

اس سمجھوتے کے تحت نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ نئی مخلوط حکومت کے وزیر اعلیٰ ہوں گے۔ اٹھتیس سالہ عمر عبداللہ ریاست میں اس عہدے پر فائز ہونے والی اب تک کی کم عمر ترین شخصیت ہوں گی۔

Wahlen Kashmir Indien

عمر عبداللہ کے والد فاروق عبداللہ

مخلوط حکومت کے قیام کے سلسلے میں کانگریس پارٹی کی صدر سونیا گاندھی اور نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ کے درمیان نئی دہلی میں ایک اہم ملاقات ہوئی، جس کے بعد یہ اعلان سامنے آیا۔ اس اعلان کے ساتھ ہی شورش زدہ ریاست میں مخلوط حکومت کے قیام کے تعلق سے موجود سنسنی خیزی ختم ہوگئی۔

کانگریس نے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ ریاست کی علاقائی جماعت کے رہنما کو ہی وزیر اعلیٰ کا عہدہ ملنا چاہیے۔

سونیا گاندھی کے ساتھ ملاقات کے بعد عمر عبداللہ نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ نئی مخلوط حکومت اشتراک کی حکومت ہوگی۔ ’’ یہ حکومت پارٹنرشپ کی حکومت ہوگی۔‘‘

Mirwaiz Umar Farooq Kaschmir

حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے رہنما میرواعظ عمر فاروق اور نیشنل کانفرنس کے صدر عمر عبداللہ نوجوان کشمیریوں میں بے حد مقبول ہیں

مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے نیشنل کانفرنس کا یہ موٴقف ہے کہ ریاست کو بھارت کے زیر انتظام ہی وسیع تر بنیادوں پر داخلی خودمختاری ملنی چاہیے جبکہ محبوبہ مفتی کی سربراہی والی جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی خود حکمرانی کی وکالت کرتی ہے۔

بحران زدہ ریاست میں سات مرحلوں میں کرائے گئے حالیہ اسمبلی انتخابات میں نیشنل کانفرنس سب سے بڑی جماعت کے طور پر اُبھر کر سامنے آئی۔ ستاسی نشستوں پر مشتمل ریاستی اسمبلی میں نیشنل کانفرنس کو اٹھائیس سیٹوں پر کامیابی حاصل ہوئی جبکہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی اکیس سیٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔

سن دو ہزار دو کے انتخابات میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی نے کانگریس کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت تشکیل دی تھی تاہم یہ حکومت امرناتھ زمین تنازعے کے باعث اپنی مدت پوری نہیں کرسکی تھی۔

ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں اس مرتبہ علیحدگی پسند اتحاد حریت کانفرنس اور دیگر حریت پسند جماعتوں کی انتخابی بائیکاٹ مہم کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد نے ووٹنگ میں حصّہ لیا تاہم سری نگر میں ہمیشہ کی طرح بائیکاٹ کا واضح اثر رہا۔

Audios and videos on the topic