1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

عمر رسیدہ مغربی سیاحوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ

ایک زمانہ تھا، جب کندھوں پر رکھے بیگ میں زادِ راہ لیے نوجوان مسافر، بر اعظم ایشیا کی سیاحت کے لیے بےتاب نظر آیا کرتے تھے۔ تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان نوجوان مسافروں کی جگہ اب ریٹائرڈ افراد نے لے لی ہے۔

default

خرچ کرنے کے لیے وقت اور پیسوں کی فراوانی کی بدولت مغربی سیاحوں کی ایک نئی نسل، مہم جُوئی کا جذبہ اور معلومات حاصل کرنےکی لامتناہی پیاس لیے بھارت، چین اور دیگر ایشیائی ممالک میں کثرت سے نظر آنے لگی ہے۔

نئی دہلی میں قائم ایک سیاحتی کمپنی Cox and King's کے اعلٰی نمائندےکرن آنند کے مطابق سیاحت اب ایک منافع بخش شعبہ ہے، جو مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ وہ کہتے ہیں، "بوڑھے یا پختہ عمر کے افراد اکثر اپنی پینشن کو خرچ کرنے اور دلچسپ مقامات کی سیر کے لیے سال بھر کی تعطیلات گزارنا پسند کرتے ہیں اور اسی حساب سے اپنی زندگی ترتیب دیتے ہیں"۔

Flash-Galerie Bangladesch Cricket World Cup 2011 Indien Beten in Bombay

بھارت کا رخ کرنے والے زیادہ تر سیاح وہاں کی مقامی ثقافت سے روشناس ہونے میں زیادہ دلچسپی ظاہر کرتے ہیں

آنند کے مطابق 55 یا اس سے بھی زائد عمرکے سیاحوں کی ترجیحات نوجوان سیاحوں سے مختلف ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر وہ بھارت کے مشہور ساحلی تفریحی مقام گوا کی بجائے مقامی ثقافت اور اُن شاہی محلات کا دورہ کرنے میں زیادہ دلچسپی دکھاتے ہیں، جنہیں اب ہوٹلوں میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔

قومی دفتر شماریات کی جانب سے فراہم کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق صرف سن 2009 میں ہی 55 تا 64 برس کے ایک لاکھ تین ہزار برطانوی باشندوں نے بھارت جبکہ 51 ہزار نے چین کے سیاحتی دورے کیے۔

لندن میں قائم سیاحتی کمپنی Original Travel کے مالک ٹام باربر کہتے ہیں کہ جب انہوں نے اپنی کمپنی شروع کی تو اس کا مقصد نوجوان پیشہ ور افراد کو بیرون ملک ولولہ انگیز تعطیلات گزارنے کا موقع دینا تھا۔ تاہم کچھ عرصے بعد انہوں نے یہ محسوس کیا کہ انہیں سیاحت کے لیے بہت سی کالز ان نوجوانوں کے والدین کی جانب سے موصول ہو رہی ہیں۔

BdT Smog in China

چین بھی مغربی سیاحوں کی توجہ کا بڑا مرکز ہے

ٹام کے مطابق پختہ عمر کے افراد کی جانب سے سیاحت میں دلچسپی کی ایک بڑی وجہ ان کی مجموعی طور پر اچھی صحت اور فٹنس ہے، جو انہیں سفاری اور اس جیسے دیگر چیلینجوں کی جانب راغب کرتی ہے۔

ٹام کے مطابق ان کے 50 برس سے زائد عمر کے گاہکوں کی نصف تعداد چین کا رخ کرتی ہے جبکہ بھارت کا رخ کرنے والے سیاحوں کی تعداد بھی اتنی ہی ہے۔

سیاحتی شعبے کے ماہرین کے مطابق لوگوں میں ایشیائی ممالک کی سیاحت کی جانب مائل ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مجموعی طور پر ایشیا کے ہوٹلوں میں کھانے کا معیار اور حفظان صحت کے اصولوں کی پاسداری بہتر ہوئی ہے، جس نے پختہ عمر کے سیاحوں کے دل سے صحت کے حوالے سے خدشات دور کر دیے ہیں۔

اگرچہ سیاحتی شعبے سے وابستہ افراد کے مطابق عرب دنیا میں حالیہ انقلابی سرگرمیوں کے باعث لوگوں کے لیے ان ممالک کی سیاحت ایک ممنوعہ امر بنا ہوا ہےتاہم لگتا ایسا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے ایران، اومان اور شام جیسے ممالک مغربی ممالک کے پختہ عمر کے سیاحوں کی اگلی منزل ہوں گے۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: امجد علی

DW.COM