1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عمران خان کی تحریک انصاف کی مقبولیت مسلسل بڑھتی ہوئی

پاکستان کے سابق کرکٹر عمران خان کی جماعت تحریک انصاف میں مختلف جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں کی دھڑا دھڑ شمولیت کا سلسلہ جاری ہے اسی لیے ان کی جماعت کو دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے کڑی تنقید کا سامنا ہے۔

default

حال ہی میں مسلم لیگ (ق) کے ٹکٹ پر رکن قومی اسمبلی سے منتخب ہونے والے اویس لغاری ان کے بھائی سینیٹر جمال لغاری کے علاوہ سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سابق وزیر محنت غلام سرور خان اور گلوکار ابرار الحق تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔

تاہم بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے اپنی جماعت میں صرف شفاف سیاستدانوں کو شامل کرنے کا دعویٰ اب زیادہ موثر دکھائی نہیں دے رہا۔ عمران خان جو اپنی جماعت کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو انقلاب کا ’’سونامی‘‘ بھی قرار دیتے ہیں کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھ شامل ہونے والوں کو منع نہیں کر سکتے۔ لیکن بقول ان کے انتخاب ٹکٹ دیتے وقت امیدوار کو شفافیت کے معیار پر پرکھا جائے گا۔

ماضی میں مختلف جماعتوں کے ساتھ رہنے والے سیاستدانوں کی تحریک انصاف میں شمولیت پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے عمران خان کہتے ہیں ، ’’لوگ کہتے ہیں جی دیکھیں آپ سب کو لے رہے ہیں، کس کو لے رہے ہیں؟ پہلے کہتے تھے کہ آپ کے پاس لوگ نہیں ہیں اب لوگ آ رہے ہیں تو آپ کہتے ہیں جی لوگ کون آ گئے آپ کے پاس۔ ایشو ایک ہی ہے۔ کیا میں اپنے منشور اور اپنے نظریئے سے ہٹا ہوں یا نہیں۔ آپ تب مجھے کہیں جب میں اس سے ہٹوں۔ میں پندرہ سال سے جو کہہ رہا ہوں آج بھی اسی پر قائم ہوں۔ یہ کہنا کہ یہ فلاں پارٹی چھوڑ کر آ رہا ہے۔ درست نہیں، کیوں کہ یہ انسان ہیں جانور تو نہیں۔ انسان کو اچھے برے کی تمیز دی ہے۔ جب اُن کے لیڈر ذات کے لیے سیاست کر رہے ہوں تو یہ کیا کریں۔‘‘

Pakistan Imran Khan

پاکستان کے سابق کرکٹر عمران خان

اب تک عمران خان کی جماعت میں شامل ہونے والوں میں زیادہ تعداد سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں قائم ہونے والی مسلم لیگ (ق) کے راہنماؤں کی ہے۔ اس لیے عمران خان کو تنقید کا سامنا بھی ہے۔ مسلم لیگ (ق) کے راہنما اور وزیر مملکت شیخ وقاص اکرم کا کہنا ہے کہ عمران خان اپنے شفافیت کے دعوؤں کے برعکس کام کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔انہوں نے کہا،''خان صاحب جب آئے تھے تو کہہ رہے تھے کلین ، کلین، کلین مگر رات وہ کہہ رہے تھے میں کیا کروں، سب کو لے کر چلنا ہے۔‘‘

ہماری پارٹی کے منتخب راہنما اویس خان لغاری کے علاوہ باقی سب تو انتخابات ہارنے والے عمران خان کے ساتھ شامل ہوئے ہیں، جن بیچاروں کے اپنے حلقوں میں فوجی حکمران کے بیٹھے ہوئے بھی وہ سارے پیسوں اور سرکاری مدد کے بعد بھی نہ جیت سکنے والے لوگ وہ چلے گئے ہیں۔‘‘

ادھر پیپلز پارٹی کے راہنما بھی عمران خان کی جماعت میں شامل ہونے والے سیاستدانوں کی ساکھ کو عوام میں ناقابل قبول قرار دیتے ہیں۔ وفاقی وزیر ٹیکسٹائل مخدوم شہاب الدین کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ہر طرح کے لوگوں کو اپنی پارٹی میں شامل کر کے ثابت کر دیا کہ وہ صرف ذات کی سیاست کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا،’’ کہا تو یہ گیا تھا کہ بہت ہی دیانتدار لوگ ہوں گے، تو بس آپ دیکھ لیں، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا۔‘‘

دریں اثناء مشرف دور کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے بھی منگل کے روز تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ بعض سیاسی جماعتوں خصوصا مسلم لیگ (ن) کا الزام ہے کہ عمران خان کو آئندہ انتخابات میں کامیابی دلوانے کے لیے کچھ خفیہ ہاتھ حرکت میں ہیں اور (ق) لیگ کے سیاستدانوں کی تحریک انصاف میں جوق در جوق شمولیت، اس تاثر کو مزید مضبوط کر رہی ہےکہ تحریک انصاف اسٹیبلشمنٹ کی جماعت ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس