1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عمران خان پاکستانی سیاست کی متاثر کن شخصیت !

کرکٹ کےمیدانوں سے سیاست میں آنے والے عمران خان نے گزشتہ ماہ لاہور میں ایک بڑا جلسہ کیا، جس کی کامیابی سے پاکستانی شہریوں کی ایک بہت بڑی تعداد سمیت عمران خان کے ناقدین بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے ہیں۔

default

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان نے 90ء کی دہائی کے آخر میں سیاست میں قدم رکھا۔ انہوں نے تحریک انصاف کے نام سے اپنی سیاسی جماعت کی بنیاد رکھی۔ سیاست میں قدم رکھنے کے بعد بہت کم ہی افراد نے انہیں سنجیدگی سے لیا اور ان میں وہ افراد بھی شامل تھے، جو کرکٹ کے حوالے سے عمران خان کے مداح ہوا کرتے تھے۔

اگرگزشتہ ماہ لاہور میں ہونے والےجلسے سے پہلے کی بات کی جائے تو عمران خان کو ایک کمزور سیاست دان کے طور پر جانا جاتا تھا۔ اس سے قبل بھی وہ کئی حکومت مخالف ریلیاں نکالتے رہے ہیں لیکن کوئی بھی لاہور میں ہونے والی ریلی کی طرح کامیاب نہیں رہی۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق عمران خان ایک لاکھ افراد کو اکھٹا کرنے میں کامیاب رہے۔

Pakistan Proteste

عمران خان پشاور میں ایک جلسے کے دوران پشتون ثقافت کی علامت سمجھی جانے والی ٹوپی ’پکول‘ پہن کر خطاب کرتے ہوئے

اس موقع پر یہ سوال ابھرتا ہے کہ ایک ایسا سیاستدان جس کی کامیابی کے حوالے سے کچھ عرصہ قبل تک شکوک و شبہات پائے جاتے تھے، ایک دم اس قدر مقبول کیسے ہوگیا؟ ان کے ناقدین پوچھتے ہیں کہ یہ پاکستانی فوج یا خفیہ ایجنسیوں کی در پردہ حمایت کا نتیجہ ہے یا یہ گزشتہ 15سالوں سے چلائی جانے والی سیاسی مہم کا ثمر ہے؟

پاکستان تحریک انصاف کے ایک کارکن خاور سہیل کے بقول عمران خان کی مقبولیت میں نمایاں کردار بدعنوانی، دہشت گردی اور خاندانی سیاست کے حوالے سے ان کے مؤقف کا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی عوام روایتی سیاست سے تنگ آ چکے ہیں۔'' عمران خان پر نہ تو بدعنوانی کا کوئی الزام ہے اور نہ ہی ان کے بیرون ملک اثاثے ہیں۔ اس وجہ سے بھی عوام ان کی جانب راغب ہوئی ہے''۔

NO FLASH Demonstration in Pakistan

ڈرون حملوں کے خلاف تحریک انصاف کے تحت منعقدہ ایک مظاہرہ

کراچی میں وال اسٹریٹ جنرل کے نمائندے اویس توحید نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ سیاسی ماہرین اور عام شہری دونوں تحریک انصاف اور عمران خان کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی سیاست میں نوجوانوں نے ہمیشہ ایک اہم کردار ادا کیا ہے اور اب عمران خان کو نوجوان نسل کی حمایت حاصل ہے۔

متعدد مبصرین کا کہنا ہے کہ عمران خان کو طالبان اور مسلم انتہاپسندوں کے حوالے سے نرم مؤقف کی وجہ سے دائیں بازو کے حلقوں کی بھی تائید حاصل ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں عمران خان نے ایسے تمام الزمات کو رد کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ اچھے روابط چاہتے ہیں جبکہ اسی ماہ کے آغاز میں طالبان کی جانب سے بھی انہیں انُ کے لبرل خیالات اور مغربی ممالک کے حمایتی کے طور پر تنقید کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

رپورٹ: شامل شمس/ عدنان اسحاق

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM