1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عمران خان نے نیٹو سپلائی بلاک کرنے کا اعلان کر دیا

پاکستانی اپوزیشن رہنما عمران خان نے اپنی پارٹی کارکنوں کو ہدایات دی ہیں کہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں مبینہ امریکی ڈرون حملوں پر احتجاج کرتے ہوئے، وہ براستہ کراچی نیٹو کے لیے افغانستان بھیجی جانے والی سپلائی بند کر دیں۔

default

جمعے کے روز کراچی میں اپنے پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کہا کہ افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے کراچی کی بندرگاہ سے رسد کی فراہمی روک دی جانی چاہیے۔ انہوں نے اپنی پارٹی کے کارکنان سے کہا کہ وہ ہفتے کی دوپہر سے اتوار کی شام تک کراچی کی بندرگاہ سے اندرون ملک جانے والے راستوں کو بلاک کر دیں۔

واضح رہے کہ کراچی شہر پاکستان کا معاشی مرکز ہے اور ملکی اقتصادیات کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ ملک کے اسی بندرگاہی شہر کو افغانستان میں متعین امریکی فوجیوں تک رسد کے بڑے حصے کی فراہمی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

Pakistan Proteste

عمران خان ڈرون حملوں کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرے سے خطاب کے دوران

عمران خان نے کہا، ’امریکہ کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کے خلاف ظلم کے جواب میں یہ ہمارا علامتی احتجاج ہوگا‘۔

اپنے خطاب میں انہوں نے صدر آصف علی زرداری اور ملک کی حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ نواز کے سربراہ اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو زبردست تنقید کا نشانہ بنایا۔

اس سے قبل عمران خان ہی کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے گزشتہ ماہ ملک کے شمال مغربی شہر پشاور میں کھلے آسمان تلے دو روز گزارے تھے۔ اس علامتی احتجاج میں امریکہ سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ فوری طور پر ڈرون حملوں کا سلسلہ بند کرے۔ عمران خان نے کراچی میں اپنے خطاب میں کہا، ’حکومت نے اپنے امریکی آقاؤں کو کھلی اجازت دے رکھی ہے کہ وہ پاکستانیوں کو قتل کریں۔ ہم ڈرون حملوں کے خلاف اس وقت تک احتجاج کرتے رہیں گے، جب تک ہمارے لوگ اس بلا کے پنجوں سے آزاد نہیں ہو جاتے‘۔

واضح رہے کہ افغانستان میں متعین تقریبا ایک لاکھ تیس ہزار غیر ملکی فوجیوں کے لیے غذا اور اشیائے ضرورت کی فراہمی کے لیے کراچی سے پاکستانی شاہراہوں کے ذریعے ممکن ہوتی ہے اور یہ ٹرک عموما عسکریت پسندوں کی پرتشدد کارروائیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اب افغانستان میں امریکی فوجیوں تک رسد کی فراہمی کے سلسلے میں وسطی ایشیائی ممالک کے روٹ کے استعمال کو ترجیح دے رہا ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM