1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عمان میں مظاہرے، صلالہ میں درجنوں کارکن گرفتار

خیلجی ریاست عمان میں سکیورٹی دستوں نے آج ہفتہ کو درجنوں ایسے مظاہرین کو گرفتار کر لیا، جو بندرگاہی شہر صلالہ میں احتجاج کے دوران اپنے لیے روزگار کے بہتر مواقع اور تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے کر رہے تھے۔

default

عینی شاہدین کے مطابق صلالہ میں ہونے والے عوامی مظاہرے گزشتہ دنوں میں تیز تر ہو گئے تھے اور ہفتہ کے روز درجنوں مظاہرین کی گرفتاریاں اسی مسلسل احتجاج کا نتیجہ ہیں۔ مسقط سے ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ عمانی سکیورٹی فورسز نے گزشتہ جمعرات کو بھی اس شہر میں ایسے بہت سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تھی، جو وہاں صوبائی گورنر کے دفتر کے باہر احتجاج کر رہے تھے۔ اس دوران سکیورٹی اہلکاروں نے وہاں لگائے گئے مظاہرین کے بہت سے کیمپ اکھاڑ دینے کے علاوہ درجنوں اور ممکنہ طور پر سینکڑوں افراد کو حراست میں بھی لے لیا تھا۔

Oman Ministerium brennt in Sohar

مظاہرین کی ملک میں سلامتی کے نگران دستوں کے ساتھ جھڑپیں ہفتہ کو صبح سویرے تک جاری رہیں

پھر کل جمعہ کے روز بھی سلطنت عمان کے اسی شہر میں مظاہرین کی سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ تازہ جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں۔ ایک عینی شاہد نے خبر ایجنسی روئٹرز کو ٹیلی فون پر بتایا کہ ہفتہ کے دن کی کارروائی میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور پھر بہت سے احتجاجی کارکنوں کو فوج کی تین بسوں میں بھر کر کسی دوسری جگہ پہنچا دیا گیا۔ مظاہرین کی ملک میں سلامتی کے نگران دستوں کے ساتھ جھڑپیں ہفتہ کو صبح سویرے تک جاری رہیں۔سلطنت عمان خلیج کی ایک قدامت پسند عرب ریاست ہے، جہاں امریکہ کے ایک اتحادی، سلطان قابوس بن سعید گزشتہ قریب چالیس سال سے اقتدار میں ہیں۔ عمان میں اس سال کے اوائل سے کئی عرب ملکوں میں شروع ہونے والی عوامی احتجاجی تحریکوں سے متاثر ہو کر مقامی باشندوں نے بھی حکمرانوں کے خلاف مظاہرے شروع کر دیے تھے۔

Proteste in Oman Ende Februar 2011

عمانی سکیورٹی فورسز نے گزشتہ جمعرات کو بھی بہت سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ کی تھی

اس دوران دو ماہ تک مظاہرین ملک میں جمہوری اصلاحات کے لیے مظاہرے کرتے رہے تھے۔ پھر اپریل کے مہینے میں سلطان قابوس نے اعلان کیا تھا کہ وہ ملک میں عام شہریوں اور کارکنوں کی حالت بہتر بنانے کے لیے 2.6 بلین ڈالر مالیت کا ایک اقتصادی پروگرام شروع کریں گے۔ اس اعلان نے عمانی مظاہرین کو کچھ دیر کے لیے تو مطمئن کر دیا تھا تاہم گزشتہ چند روز سے اس خلیجی سلطنت میں کارکنوں کی طرف سے جمہوری اصلاحات، مقامی باشندوں کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع، تنخواہوں میں اضافے اور بدعنوانی کے خاتمے کے لیے کیے جانے والے مظاہرے دوبارہ شدید ہو چکے ہیں۔

عمان میں حکومت سے ناراض بہت سے مظاہرین کی رائے میں سلطان قابوس کی سربراہی میں ملکی انتظامیہ نے اصلاحات سے متعلق عوامی مطالبات پورے کرنے کے سلسلے میں اب تک جو اقدامات کیے ہیں، وہ بہت کم ہیں اور انتہائی سست رفتار رہے ہیں۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس