1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

عمان میں بھی حکومت مخالف مظاہرے

تیونس، مصر اور لیبیا سمیت عرب دنیا میں جاری تبدیلی کی لہر اب عام طور پر پرسکون سمجھی جانے والی خلیجی ریاست سلطنت عمان تک پہنچ گئی ہے۔

default

اتوار کے روز عمان کے شہر صحار میں مظاہرین پر پولیس کی جانب سے ربڑ کی گولیاں فائر کرنے کی وجہ سے ایک شخص ہلاک ہوگیا، جبکہ دیگر پانچ زخمی ہیں۔ دارالحکومت مسقط سے 200 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع صحار میں حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرین پر یہ فائرنگ اس وقت کی گئی جب انہوں نے ایک پولیس تھانے پر ہلہ بول دیا۔

عمان کی سرکاری خبررساں ایجنسی ONA کے بقول حکومت کے خلاف یہ مظاہرے ہفتہ کو علی الصبح شروع ہوئے اور اتوار کے روز بھی جاری رہے۔ خبررساں ادارے کے مطابق اس دوران متعدد حکومتی اور نجی گاڑیوں کو آگ لگادی گئی۔ مظاہرین نے صحار میں واقع گورنر کے گھر اور ایک پولیس اسٹیشن کو بھی نذر آتش کردیا۔

عینی شاہدین کے مطابق احتجاج میں شامل زیادہ تر تعداد بے روزگار نوجوانوں کی تھی جو نوکریوں کے علاوہ تنخواہوں میں اضافے اور بدعنوانی کے خلاف اقدامات کا مطالبہ کررہے تھے۔

Oman Sultan Qaboos bin al Said Vereinigte Arabische Emirate

عمان کے حکمران سلطان قابوس نے بے چینی ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کا اعلان کیا ہے

صحار میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد عمان کے حکمران سلطان قابوس نے بے روزگاری کی وجہ سے نوجوانوں میں پائی جانے والی بے چینی ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن میں 50 ہزار نئی ملازمتوں کے علاوہ بےروزگاری الاؤنس دینے کا اعلان شامل ہے۔

یمن میں بھی برسراقتدار حکومت کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔ یمن کے صدر علی عبداللہ صالح نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ وہ اپنا تین دہائیوں پر محیط اقتدار بچانے کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے سے گریز نہیں کریں گے۔ صالح نے مخالفین پر الزام لگایا کہ وہ یمنی قوم میں پھوٹ ڈالنا چاہتے ہیں۔ یمن کے شہر المکلا میں حکومت مخالف احتجاج میں شامل طلبہ کے خلاف طاقت کا استعمال کیا گیا جس سے پانچ نوجوان زخمی ہوگئے۔

لمبے عرصے سے برسراقتدار حکمرانوں کے خلاف تحریکوں کے سبب تیونس کے صدر زین العابدین بن علی اور مصر کے صدر حسنی مبارک اقتدار سے علیحدہ ہوچکے ہیں جبکہ لیبیا کے سربراہ معمر قذافی کے خلافاحتجاج اور بغاوت میں مسلسل اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ لیبیا میں مظاہرین کے خلاف حکومتی کریک ڈاؤن میں ایک ہزار سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

رپورٹ: افسراعوان

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس