1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

علی عبداللہ صالح کو ہسپتال سے چھٹی مل گئی

کچھ ہفتے قبل عرب ملک یمن کے زخمی ہونے والے صدر علی عبداللہ صالح، سعودی عرب میں ایک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد گزشتہ روز ملٹری ہسپتال سے ڈسچارج کردیے گئے ہیں۔

default

علی عبداللہ صالح

ایک طرف یمن کے صدر کو سعودی عرب میں ہسپتال سے فارغ کردینے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں تو دوسری طرف ان کے ملک کے دارالحکومت صنعا میں صدر کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان جھڑپوں میں دوبارہ شدت پیدا ہو گئی ہے۔ علی عبداللہ صالح ماہِ جون میں صدارتی رہائش گاہ پر راکٹ حملے کے نتیجے میں شدید زخمی ہو گئے تھے۔ زخمی حالت میں انہیں سعودی عرب پہنچایا گیا تھا۔ ابتدائی علاج کے بعد چہرے پر آنے والے زخموں کی پلاسٹک سرجری بھی کی گئی ہے۔ وہ دو ماہ تک زیر علاج رہے۔

صالح کی صحت یابی اور ہسپتال سے فارع کردینے کی تصدیق یمنی گورنمنٹ نے کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق صدر صالح ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد سعودی عرب کے دارالحکومت میں واقع ایک گھر میں منتقل ہوں گے۔ اس کے بعد ہی وہ اپنے وطن واپس جانے کی تاریخ کا کوئی فیصلہ کریں گے۔ مبصرین کے مطابق جون کے حملے کے بعد صالح کا مورال قدرے متزلزل ہے اور وہ کسی طور جنگ زدہ ملک روانہ ہونے کا فوری پلان نہیں بنائیں گے۔

NO FLASH Jemen Proteste

یمن میں جمہوریت نوازوں کے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے

ادھر یمن میں صدر صالح کی حامی فوج اور احمر قبیلے کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یمنی قبائلیوں کی کنفیڈریشن ہاشید میں احمر قبیلے کو بہت احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک بڑی قوت اور طاقت کا حامل تصور کیا جاتا ہے۔ دارالحکومت اور اس کے گردو نواح میں مقیم فوج اور قبائلی لشکریوں کے درمیان وقفے وقفے سے سے فائرنگ کا تبادلہ جاری ہے۔ اسی طرح تعز اور عدن میں بھی صالح مخالف مظاہروں کا سلسلہ کلی طور پر تھما نہیں ہے۔ دارالحکومت صنعا کے علاوہ دوسرے یمنی شہروں میں پیدا سیاسی بدامنی کی وجہ سے لاکھوں افراد کو نقل مکانی کا سامنا ہے۔

عرب دنیا کے غریب ملک یمن میں اس سال فروری سے صالح مخالف جمہوریت نوازوں کے مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ سیاسی بحران کی وجہ سے یمن اس وقت خانہ جنگی کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ عالمی برادری کے دباؤ کے باوجود صدر صالح اقتدار چھوڑنے پر ابھی تک تیار نہیں ہیں۔ اس دوران خلیج تعاون کونسل کے مصالحتی فارمولے کو صالح نے دو تین بار نئی شرائط کے تحت مسترد کردیا تھا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس