1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

علی حیدر گیلانی کل بدھ کو پاکستان پہنچیں گے

پاکستانی حکومت نے سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے مغوی صاحب زادے علی حیدر گیلانی کی رہائی کی سرکاری طور پر تصدیق کر دی ہے۔

پاکستان کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کے مطابق اغوا کاروں کے چنگل سے رہائی پانے کے بعد علی حیدر گیلانی بگرام ائیر بیس پر موجود ہیں، جہان ان کا طبی معائنہ کیا گیا ہے اور ان کی حالت تسلی بخش بتائی جا رہی ہے۔ علی حیدر گیلانی کو آج منگل کے روز افغانستان میں ہونے والے غیر ملکی اور افغان فورسز کے ایک مشترکہ آپریشن کے نتیجے میں دہشت گردوں سے بازیاب کروایا گیا تھا۔

یوسف رضا گیلانی کے خاندانی ذرائع کے مطابق علی حیدر کو لینے کے لیے ایک خصوصی طیارہ افغانستان جائے گا جس میں گیلانی فیملی کے بعض ارکان بھی موجود ہوں گے۔ علی حیدر گیلانی کو بدھ کی صبح کابل میں پاکستان کے سفارت خانے پہنچایا جائے گا۔ گھر روانگی سے پہلے ان کی ڈی بریفنگ کا بھی امکان ہے۔

یوسف رضا گیلانی کے صاحب زادے عبدالقادر گیلانی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ علی حیدر نے ٹیلی فون پر اپنے اہل خانہ سے بات چیت کی ہے، وہ بالکل ٹھیک ہیں اور ان کا حوصلہ بلند ہے۔

عبدالقادر گیلانی ملتان سے لاہور کے لیے روانہ ہو چکے ہیں جہاں متوقع طور پر بدھ کی دوپہر کو لاہور پہنچنے والے علی حیدر گیلانی کے استقبال کی تمام تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔

اس وقت ملتان اور لاہور میں واقع یوسف رضا گیلانی کی رہائش گاہوں پر عید کا سا سماں ہے۔ خاص طور پر لاہور کے علاقے ڈیفنس ہاوسنگ اتھارٹی میں واقع سید یوسف رضا گیلانی کی رہائش گاہ پر مبارک بادیں دینے والے لوگوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ ملک بھر سے گیلانی فیملی کے دوستوں اور رشتہ داروں کی یہاں آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ میڈیا کے لوگوں کی بہت بڑی تعداد بھی یہاں موجود ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے بہت سے کارکن بھی یہاں پہنچ چکے ہیں۔

Pakistan Ministerpräsident Yousaf Raza Gilani

علی حیدر گیلانی کی بازیابی کی اطلاع پاکستان میں افغانستان کے سفیر نے سید یوسف رضا گیلانی کو اس وقت دی تھی جب وہ بلاول بھٹو کے ساتھ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ایک انتخابی جلسے میں شریک تھے۔ انہیں جلسے کے بعد فوری طور پر اسلام آباد پہنچایا گیا۔ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی سابق وزیر اعظم گیلانی کو فون کر کے ان کے بیٹے کی بازیابی پر انہیں مبارک باد دی ہے۔ دہشت گردوں سے حال ہی میں بازیاب کرائے جانے والے شہباز تاثیر نے بھی علی حیدر کی رہائی پر گیلانی خاندان کو مبارک باد دی۔

علی حیدر گیلانی کو 2013ء کے انتخابات سے دو روز قبل انتخابی مہم کے دوران طالبان کے ایک گروہ سے تعلق رکھنے والے شدت پسندوں نے اغوا کر لیا تھا۔ ان کی رہائی کے لیے مسلسل کوششیں کی جاتی رہی تھیں۔ دہشت گردوں نے کئی مرتبہ علی حیدر گیلانی کی بات چیت ان کے گھر والوں سے کروائی تھی۔

سکیورٹی کے امور کے ماہر اور تجزیہ نگار سلمان عابد نے علی حیدر گیلانی کی رہائی پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’علی حیدر گیلانی کو القاعدہ سے تعلق رکھنے والی ایک کالعدم تنظیم کے کارکنوں نے ملتان سے اغوا کیا تھا۔ ماضی میں کالعدم تنظیمیں تاوان کے حصول، اپنے مطالبات کی منظوری اور حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے اہم شخصیات کو اغوا کرتی رہی ہیں۔ انہوں نے چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل طارق مجید کے داماد کو بھی اسی طرح کی ایک کارروائی کے دوران لاہور سے اغوا کر لیا تھا۔ انہیں بھی کافی عرصے کے بعد رہائی مل سکی تھی۔ ایک اطلاع کے مطابق طالبان گروپوں کے پاس اب بھی کئی مغوی افراد موجود ہیں۔‘‘

سلمان عابد کے بقول ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ علی حیدر کی رہائی کے لیے کئے جانے والے آپریشن کی تفصیلات کیا ہیں کیونکہ ان کے بقول ان کے خاندان سے تاوان کی ادائیگی کے مطالبے بھی سننے میں آتے رہے ہیں۔ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کی رہائی کے موقع پر بھی پہلے یہ بتایا گیا تھا کہ انہیں ایک آپریشن کے نتیجے میں بازیاب کروایا گیا تھا لیکن بعد میں صورتحال کچھ مختلف نکلی تھی۔

سلمان عابد کے بقول چند ہفتوں میں دو اہم مغوی شخصیات کی رہائی ایک اچھا شگون ہے، یہ بھی درست ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کی طاقت میں کافی کمی آ چکی ہے لیکن ابھی تک دہشت گردی کے خطرات ٹلے نہیں ہیں۔