1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

علی حیدر گیلانی افغانستان سے بازیاب

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے مغوی بیٹے علی حیدر گیلانی کو افغانستان سے بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ علی حیدر گیلانی کو تین سال قبل مبینہ طور پر پاکستانی طالبان نے اغوا کر لیا تھا۔

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان کے مطابق سابق پاکستانی وزیر اعظم کے بیٹے کو افغانستان کے علاقے غزنی میں امریکی اور افغان فورسز کی جانب سے کی گئی ایک مشترکہ کارروائی میں بازیاب کرا لیا گیا۔ علی حیدر گیلانی کے ملنے کی خبر سب سے پہلے بلاول بھٹو زرداری نے اپنی ایک ٹویٹ کے ذریعے سوشل میڈیا پر دی، جس کی تصدیق بعد ازاں وازرت خارجہ کی جانب سے بھی کر دی گئی۔

وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق علی حیدر گیلانی کو طبی معائنے کے بعد پاکستان بھیجنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

تاہم حیدر گیلانی کے بھائی عبد القادر گیلانی نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ یوسف رضا گیلانی بھی اس وقت افغانستان میں موجود ہیں۔ عبدالقادر گیلانی کا کہنا تھا، ’’میں نے ابھی تک اپنے والد سے بات نہیں کر پایا اور میں اس خبر کی فوری تصدیق اس لیے بھی نہیں کروں گا کیوں کہ ماضی میں بھی علی حیدر گیلانی کے ملنے کی افواہیں سامنے آتی رہی ہیں۔‘‘

دوسری جانب پاکستان میں تعینات افغانستان کے سفیر ڈاکٹر عمر زاخیل وال نے اپنے فیس بُک پیغام میں لکھا، ’’میں نے یوسف رضا گیلانی کو فون کر کے یہ خوش خبری سنائی جس پر انہوں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے (افغان صدر اشرف) غنی اور افغان فورسز کا کا شکریہ ادا کیا۔‘‘

علی حیدر گیلانی کو ٹھیک تین سال قبل 9 مئی 2013ء کو مبنیہ طور پر پاکستانی طالبان کے جنگجوؤں نے اس وقت ملتان کے نواحی علاقے سے اغوا کر لیا گیا تھا جب وہ انتخابی سرگرمیوں میں مشغول تھے۔ اغوا کاروں کی فائرنگ سے ان کے سیکرٹری اور محافظ ہلاک ہو گئے تھے جب کہ چار دیگر افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔

حیدر گیلانی کے والد سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے اس وقت یہ شکایت بھی کی تھی کہ انہیں اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں ملنے کے باوجود مناسب سکیورٹی مہیا نہیں کی گئی تھی جس کی وجہ سے گیلانی کو اغوا کرنا ممکن ہو گیا تھا۔

DW.COM