1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

علم حاصل کرو، چاہے ’’چین سے ہی کیوں نہ جانا پڑے‘‘

کہتے ہیں کہ علم حاصل کرو چاہے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ یہ محاورہ بہت سے لوگوں پر صادق آتا ہوگا لیکن خود چینی نوجوانوں پر نہیں۔

default

چین میں بہت سے نوجوان اپنے ہی ملک کی اعلی یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے غیر قانونی طریقے استعمال کرنے لگے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ اپنی ان کوششوں میں کامیابی کے لیے لاکھوں یوآن بھی خرچ کرتے ہیں ۔ چین میں سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک میں اعلی ترین تعلیمی اداروں میں داخلے کی دوڑ اب اتنی شدید ہو گئی ہے کہ خود چینی طلبہ اپنے آپ کو غیر ملکی ثابت کرکے ملک کی بہت مشہور یونیورسٹیوں میں داخلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں ۔

چینی میڈیا کے مطابق ایسے طلبہ اپنے رہن سہن اور ظاہری شخصیت کو چھپا تو نہی سکتے ، کیونکہ انھوں نے اپنی پیدائش سے لے کر کالج کی سطح تک کا زمانہ چین ہی میں گزارا ہوتا ہے۔ لیکن جب ان سے ان کی شناخت دریافت کی جائے تو وہ خود کو غیرملکی ثابت کر دیتے ہیں ۔

ایسا اس طرح ممکن ہوتا ہے کہ یہ طلبہ بیرونی ملکوں کے جعلی پاسپورٹ خرید لیتے ہیں۔ بیجنگ سے شائع ہونے والے اخبار گلوبل ٹائمز نے ابھی حال ہی میں ملک میں جعلی داخلوں کے ایک بہت بڑے سکینڈل کا انکشاف کرتے ہوئے لکھاکہ چینی طلبہ کو ملک کی اعلٰی ترین یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے پورے ملک میں ہر سال ہونے والے امتحان بہت اچھے نمبروں سے پاس کرنا ہوتے ہے ۔

لہذا بہت کم طلبہ ایسے ہوتے ہیں جنھیں ایسے تعلیمی اداروں میں داخلہ ملتا ہے ۔ انہی تعلیمی اداروں میں البتہ ان غیر ملکی طلبہ کو، جن کی اوسط کارکردگی اگر بہت ذہین چینی طلبہ کے مقابلے میں کم بھی ہو ، تو بھی انھیں اس لیے داخلہ دے دیا جاتا ہے کہ ایسے معروف چینی تعلیمی اداروں کے ماحول کو زیادہ سے زیادہ بین الااقوامی رنگ دیا جا سکے۔

Teaching Tycoons

چینی نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے لئے جامعات میں داخلے کے لئے بہت سی پریشانیاں اٹھانی پڑی ہیں

ان حالات میں با وسائل چینی طلبہ نے داخلوں کے لیے دوسرے ملکوں کے جعلی پاسپورٹ خریدنے کا ایک ایسا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ اس کا مرکز مشرقی چین کے مختلف علاقے بتائے جاتے ہیں وہاں سے کسی بھی افریقی، جنوبی امریکی یا جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کا پاسپورٹ دو لاکھ یوآن یا قریب تیس ہزار امریکی ڈالر کے عوض خریدا جا سکتا ہے۔

اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد حکام کوبہت دلچسپ حقائق کا پتہ چلا ۔ بظاہر چینی نظر آنے والے جتنے بھی طلبہ اپنی داخلے کی درخواستوں کے ساتھ غیر ملکی پاسپورٹ کی جو کاپیاں بھیجتے ہیں، ان پر تاریخ اجرا ہمیشہ صرف چند مہینے ہی پرانی ہوتی ہے ۔مذید یہ کہ ایسے جتنے بھی طلبہ اپنے غیر ملکی ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں ان میں سے زیادہ تر کو اپنے جعلی وطن کی نہ تو زبان ہی آتی ہے نہ ہی اسکے دارلحکومت تک کا نام معلوم ہوتا ہے ۔ تفتیش کرنے پر حکام کو پتہ چلا کہ ایسے پاسپورٹ اس لیے پرانے نہیں ہوتے کہ وہ داخلے سے کچھ ہی عرصہ پہلے آرڈر پربنوائے جاتے ہیں مزید یہ کہ اگر کسی طالبعلم کا خاندان نسل درنسل چین ہی میں آباد رہا ہو تو اسے ایشیا میں تھائی لینڈ، جنوبی امریکہ میں برازیل یا افریقہ میں کانگو کی زبان بھلا کیسے آ سکتی ہے ۔

چینی حکام نے اب اعلی یونیورسٹیوں میں داخلے کے خواہش مند غیر ملکی طلبہ سے یہ مطالبہ کرنا بھی شروع کردیا ہے کہ وہ جس ملک کے شہری ہوں ، چینی یونیورسٹیوں میں داخلے سے پہلے انھیں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ کم ازکم اپنے آبائی وطن میں چار سال رہائش پذیر رہے ہیں ۔ حکام کو امید ہے کہ اس طرح کم از کم اپنے چینی نہ ہونے کا دعوی کرنے والےچینی طلبہ کو تعلیمی مقاصد کے لیے جعلسازی سے روکا جا سکے گا ۔

رپورٹ : عصمت جبین

ادارت : کشورمصطفیٰ